.

لیبیا: پارلیمان براہ راست صدارتی انتخاب پر متفق

نئے صدر کے انتخاب کے لیے عوام براہ راست ووٹ ڈالیں گے،تاریخ مقرر نہیں کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی نئی پارلیمان (ایوان نمائندگان) نے کثرت رائے سے ملک کے آیندہ صدر کے براہ راست عوام کے ووٹوں سے انتخاب سے اتفاق کیا ہے۔

ایک رکن اسمبلی فتح اللہ سیتی نے بتایا ہے کہ ''ہم نے صدر کے براہ راست انتخاب کا فیصلہ کیا ہے لیکن نئے صدارتی انتخابات کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ہم ملک میں جاری موجودہ بحران پر غور کررہے ہیں اور صورت حال کے مستحکم ہونے کے منتظر ہیں''۔

لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے تین سال کے بعد بھی استحکام نہیں آسکا ہے اور متحارب جنگجو دھڑوں کے درمیان دارالحکومت طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بن غازی میں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔

لیبیا کی موجودہ حکومت کے اندر بھی چپقلش اور محاذآرائی جاری ہے۔سیاست دانوں کے درمیان باہمی آویزش کی وجہ سے گذشتہ پارلیمان عضو معطل ہوکررہ گئی تھی اور مرکزی حکومت ملک میں اپنی عمل داری قائم کرنے میں ناکام رہی تھی جس سے فائدہ اٹھا کر جنگجو گروپوں نے اپنے اپنے زیرنگیں علاقوں میں اپنی حکومتیں قائم کر لی تھیں۔

گذشتہ ماہ سے طرابلس میں مغربی شہر الزنتان سے تعلق رکھنے والے سابق باغیوں اور ان کے مخالف مصراتہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی جنگجوؤں کے درمیان ہوائی اڈے اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی ہورہی ہے۔اقوام متحدہ کا ایک وفد لیبی دارالحکومت میں ان دونوں دھڑوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت کررہا ہے۔

طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد بہت سے ممالک نے اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بند کردیا ہے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔واضح رہے کہ بن غازی میں 2011ء کے اوائل میں سابق صدر معمر قذافی کے خلاف سب سے پہلے عوامی احتجاجی تحریک برپا ہوئی تھی لیکن اس شہر میں اس وقت سے بد امنی کا دور دورہ ہے۔مسلح جنگجو سرعام اسلحے سمیت دندناتے پھرتے ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں ،غیرملکیوں ،سرکاری حکام اور ججوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں میں طوائف الملوکی کے پیش نظر مغربی سفارت کار اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ مشرقی شہر درنہ خاص طور پر غیرملکی اور مقامی اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بن چکا ہے جو وہاں سے شام یا مصر کا رُخ کررہے ہیں۔