.

عرب اسرائیلی جارحیت کے مقابل متحدہوں:سعودالفیصل

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے عرب اقوام پر زوردیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا توڑ کرنے کے لیے ایک صف میں اکٹھے ہوں۔انھوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت پر پوری دنیا کو مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک وزارتی اجلاس میں شریک تھے جس میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا ہے۔

اجلاس میں شہزادہ سعود الفیصل نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنا ہے مگر سعودی عرب فلسطینی کاز کو اپنا بنیادی کاز سمجھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات خانہ جنگیوں کے موجب بن رہے ہیں اور اس سے اسرائیل کو اپنے جرائم کے اعادے کی شہ مل رہی ہے۔

انھوں نے تمام عرب ممالک پر زوردیا کہ وہ جارحیت روکنے کی مصر کی کوششوں کی حمایت کریں اور درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہیں۔شہزادہ سعودالفیصل نے اسرائیل سے سوال کیا کہ اگر تمام مسلم دنیا متحد ہوگئی تو کیا وہ پھر بھی جارحیت کرسکے گا۔انھوں نے فلسطین کی تعمیر نو کے لیے ترقیاتی فنڈ میں سعودی عرب کی جانب سے پچاس کروڑ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ادھر قاہرہ میں مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے بالواسطہ بات چیت کے دوسرے روز کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔فلسطینی وفد غزہ کی ناکا بندی کے مکمل خاتمے پر اصرار کررہا ہے جبکہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے پر مُصر ہے لیکن فلسطینیوں نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔۔فلسطینی وفد میں تنظیم آزادی فلسطین ،حماس اور اسلامی جہاد کے مذاکرات کار شامل ہیں۔

فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں نے سوموار کوغزہ میں جاری تنازعے اور اسرائیل کی ناکا بندی کے خاتمے کے لیے مصر کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت شروع کی تھی اور اس سے قبل غزہ میں بہتر گھنٹے کے لیے نئی عارضی جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی فوج کی 8 جولائی کے بعد جارحیت کے نتیجے میں قریبا دوہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔