.

رُوسی ٹی رپورٹ میں مصری صدور کا تذکرہ، مرسی نظرانداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر فیلڈ مارشل [ریٹائرڈ] عبدالفتاح السیسی کے روس کے سرکاری دورے پر ماسکو میں ہیں، جہاں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف سمجھوتوں بات چیت بھی جاری ہے۔ دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے بھی صدر السیسی کے دورے کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔

اس خصوصی موقع پر روس کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات اور مختلف مصری صدور کے ادوار میں ان تعلقات پر ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی۔ رپورٹ میں مصر کے سابق صدر مرحوم جمال عبدالناصر، انور سادات، سابق معزول صدر حسنی مبارک کے ادوار کو خاص طور پر اہمیت کا حامل قرار دیا ہے تاہم رپورٹ میں گذشتہ برس فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور صدارت کے دوران سابق سوویت یونین اور قاہرہ کے مابین مضبوط اور دوستانہ تعلقات قائم رہے۔ صدر انور سادات کے دور حکومت کے اوائل میں دو طرفہ تعلقات مستحکم رہے لیکن اکتوبر1973ء کی جنگ کے دوران سوویت ماہرین کو صدر سادات نے ملک سے نکال دیا جس کے بعد دوطرفہ تعلقات میں دراڑ آ گئی تھی تاہم حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار میں قاہرہ۔ ماسکو تعلقات میں بتدریج بہتری آئی۔

ٹی وی رپورٹ میں صدر عبدالفتاح السیسی کی ماسکو آمد، ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے ملاقات اور عوام کی جانب سے ان کے استقبال کی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں۔ دونوں صدور ماسکو میں سوچی روڈ پر چل رہے ہیں جہاں سڑک کے دونوں اطراف کھڑے شہری تالیوں کی گونج میں مہمان صدر کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر پوتن کی اجازت سے دو روسی بچوں نے مصری صدرسے مصافحہ کیا اورانہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔