.

سابق یمنی صدر کے گھر کے قریب سرنگ دریافت

"سرنگ کا مقصد عبداللہ صالح پر ایک اور قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق مرد آہن علی عبداللہ صالح کی رہائش گاہ کے قریب زیر زمین سرنگ ملی ہے۔ حکام اس سرنگ سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں کیوںکہ صالح کی جماعت نے الزام لگایا ہے سرنگ سابق صدر کو قتل کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

علی عبداللہ صالح 33 برس تک یمن میں سیاہ و سفید کے مالک رہے تاہم فروری 2012ء میں اقوام متحدہ اور خلیج تعاون کونسل کی ثالثی میں طے پانے معاہدے کے بعد وہ اقتدار اس وقت کے نائب صدر عبد ربہ منصور ہادی کے سپرد کر کے اقتدار سے الگ ہو گئے تھے۔

یمنی نیوز ایجنسی 'صبا' نے ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سپریم سیکیورٹی کمیٹی کو گذشتہ روز علی عبداللہ صالح کے گھر کے قریب ایک سرنگ کی موجودگی اور کھدائیوں سے متعلق شکایت ملی تھی۔ جس کے بعد سیکیورٹی حکام نے صدر ہادی کے ایماء پر قانونی اقدام اٹھاتے ہوئے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرنا شروع کر دئیے۔

تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ 88 میٹر لمبی زیر زمین سرنگ صدر صالح کی رہائش گاہ کے جنوبی حصے تک جاتی تھی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق 'سرنگ کھودنے والوں کا سراغ لگانے اور اس کے مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملہ ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

فیلڈ مارشل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے سابق فوجی سربراہ علی علی عبد اللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس ہی سے تعلق رکھنے والے منصور ہادی یمن میں منصب صدارت پر فائر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں ملکی سلامتی، استحکام اور اتحاد کو نشانہ بنانے والے منظم دہشت گردانہ اقدام کے بارے میں جان کر بہت زیادہ حیرت ہوئی ہے۔"

حکمران جماعت نے سرنگ کے انکشاف کے بعد پارٹی ویب سائٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ سرنگ کا مقصد علی عبداللہ صالح، ان کے محافظوں اور جماعت کی دوسری قیادت پر پر قاتلانہ حملہ کرنا تھا۔

پارٹی نے اس مبینہ منصوبے کو 3 جون 2011 کے قاتلانہ حملے سے تشبیہ دی جس میں صدارتی محل کے اندر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں صالح زخمی جبکہ 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ناقدین نے صالح پر الزام لگایا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ ملک کو القاعدہ، شمال میں شیعہ بغاوت اور جنوب میںعلاحدگی پسند تحریک کے خطرات کا سامنا ہے۔