.

مرشد اعلیٰ خود 'جاسوسی' سرگرمیوں کی نگرانی کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اختیارات کے تمام مراکز قابض سپریم لیڈر علی خامنہ ای نہ صرف اعلیٰ عدلیہ کے فاضل ججوں کا تقرر اپنی مرضی سے کرتے ہیں بلکہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے زمرے میں آنے والی جاسوسی مقدمات سے متعلق خصوصی عدالت کے جج کے کی تقرری کا حتمی اخیتار سپریم لیڈر کے پاس ہے۔ یوں سپریم لیڈر آیت اللہ علی العظمیٰ ملک میں ہونے والی جاسوسی سرگرمیوں اور خفیہ مانیٹرنگ کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔

فارسی نیوز ویب پورٹل "روز" کے مطابق فون کالز، ای میلز اور دیگرخفیہ روابط کی نگرانی پرمامور جج کو نیشنل سپریم سیکیورٹی کونسل کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے لیکن اس کی حتمی تقرری کا اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہے۔ وہ چاہیں تو سیکیورٹی کونسل کی تجویزمنظور کریں، چاہیں مسترد کردیں۔ سپریم لیڈرکی منظوری کے بعد اسے جوڈیشل اتھارٹی کے سربراہ کے پاس بھیجا جاتا ہے، جو سپریم لیڈر کی تجویز کو مسترد کرنے کا مجاز نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ معاملات کی مانیٹرنگ کرنے والے جج صاحبان براہ راست سپریم لیڈر اور صدر مملکت ہی کو جواب دہ ہوتے ہیں اور ان دونوں کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ یہ جج وقتا فوقتا سپریم لیڈر کو اہم نوعیت کے حکومتی رازوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل اور حکومت کے درمیان جاسوسی کی مانیٹرنگ کے موضوع پر کھینچا تانی بھی رہتی ہے۔ سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ جاسوسی کے زمرے میں آنے والے معاملات کو مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] میں زیر بحث نہیں لایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم راز بھی منکشف ہو جاتے ہیں۔

جاسوسی اور خفیہ معاملات کی مانیٹرنگ کرنے والی عدالتیں اپنے دائرہ کار واختیار سے بھی تجاوز کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ چند ماہ پیشتر ایران کی مجلس شوریٰ کے ایک رکن علی مطہری نے یہ کہہ کر پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیا کہ خفیہ اداروں اور جاسوسی عدالت نے اس کے دفتر میں جاسوسی کا ایک آلہ نصب کر رکھا تھا جس سے ان کے معمولات کی خفیہ نگرانی کی جا رہی تھی۔