.

900 فرانسیسی عراق اور شام میں لڑرہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ قریباً نوسو فرانسیسی شہری مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائیوں میں شریک ہیں اور ان میں سے بعض سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق شام (داعش) میں شامل ہوچکے ہیں۔

وزیرداخلہ برنارڈ کازینیوف کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ان اعداد سے عیاں ہے کہ فرانسیسی شہریوں کی جنگجو گروپوں میں شمولیت کے لیے حوصلہ شکنی کے باوجود شام اور عراق جاکر لڑنے والوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے اور فرانس سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جہاد کے لیے آنے والے نوجوانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

کازینیوف نے ایک فرانسیسی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''فرانس سے تعلق رکھنے والے قریباً نوسو افراد شام اور عراق میں جاری کارروائیوں میں شریک ہیں۔ان میں سے بعض عراق میں ہیں کیونکہ ان کو بھرتی کرنے والی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام اپنے جنگجوؤں کو ہر اس جگہ پر لے جاتی ہے جہاں وہ جنگ آزما ہو''۔

سکیورٹی عہدے دار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ شام اور عراق میں جاکر لڑنے والے یورپی جنگجو اپنے آبائی ممالک کو لوٹیں گے تو وہاں سکیورٹی مسائل پیدا کرنے کا موجب بنیں گے۔