.

لیبی پارلیمان کاعالمی مداخلت کے حق میں ووٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شورش پر قابو پانے کے لیے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی نئی پارلیمان نے اقوام متحدہ سے ملک میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مداخلت کی درخواست کی ہے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بن غازی میں گذشتہ کئی ماہ سے متحارب ملیشیاؤں کے درمیان جاری لڑائی کے پیش نظر دوردراز واقع مشرقی شہر تبروک میں نئی پارلیمان کا بدھ کو اجلاس ہوا ہے۔پارلیمان کے ارکان نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملک میں جاری خانہ جنگی پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔ایوان میں موجود ایک سو چوبیس ارکان میں سے ایک سو گیارہ نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہواہے کہ اقوام متحدہ لیبی پارلیمان کے مطالبے پر کیا مداخلت کرے گی لیکن اس ملک میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے بہت سے حلقوں کی جانب سے مداخلت کی اپیلیں کی جاتی رہی ہیں۔لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن نے حال ہی میں متحارب گروہوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کرکے امن بات چیت کا آغاز کریں۔

لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے تین سال کے بعد بھی استحکام نہیں آسکا ہے اور متحارب جنگجو دھڑوں کے درمیان طرابلس اور بن غازی میں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔

طرابلس میں مغربی شہر الزنتان سے تعلق رکھنے والے سابق باغیوں اور ان کے مخالف ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی جنگجوؤں کے درمیان ہوائی اڈے اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی ہورہی ہے۔منگل کی رات اس لڑائی میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلامی جنگجوؤں نے گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہونے بعد اور بن غازی میں سابق باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا کی اپنے خلاف کارروائی کا بدلہ چکانے کے لیے طرابلس میں ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے حملہ کیا تھا۔

لیبیا کی نئی پارلیمان زیادہ تر اسلام مخالفوں پر مشتمل ہے اور وہ ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دینے کے لیے ایک اور قرارداد پر بھی غور کررہی ہے۔تاہم ماضی میں اسی طرح کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں۔