.

"اسرائیل کے بجائے دنیا حماس اور داعش کا پیچھا کرے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اقوام متحدہ اور عالمی تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کا ٹرائل کرنے کے بجائے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس، داعش، شام کے صدر بشار الاسد اور لیبیا میں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔

جنگ پسند صہیونی رہنما نے دعوی کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" جیسی قاتل اور دہشت گرد تنظیموں کو کھلی چھٹی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی جرائم میں اسرائیل نہیں بلکہ حماس، دولت اسلامی عراق وشام [داعش] اور شام کے صدر بشار الاسد ملوث ہیں۔ عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل ان سے کیوں تحقیقات نہیں کر رہی ہے اور سارا نزلہ صرف اسرائیل پر کیوں گرایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے غزہ کی پٹی میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل نے یو این تحقیقاتی کمیشن کی مخالفت کی تھی تاہم حماس نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دے کر کمیشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں کل بدھ کو امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق دونوں رہ نماؤں میں ہونے والی بات چیت میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اہم ترین موضوع رہا تاہم بات چیت کی تفصیل بعد میں سامنے آئے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو جنگی جرائم دیکھنے ہیں تو اپنے مبصرین کو دمشق، بغداد اور طرابلس بھیجے، داعش، بشار الاسد اور حماس سے تحقیقات کرے جو پوری دنیا میں جنگی جرائم میں بدنامی کی حد تک مشہور ہیں۔ اسرائیل تو اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2009ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے بعد بھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں اسرائیل اور فلسطینی مسلح تنظیموں کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

تاہم اقوام متحدہ ہی کی ایک دوسری رپورٹ میں صرف اسرائیل کو فلسطینیوں کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔ ان رپورٹس کے منظر عام پرآنے کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کردار سخت تنقید کی تھی۔ اس جنگ میں 1440 فلسطینی شہید اور 13 اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔