.

سانحہ رابعہ اسکوائر کی برسی پر مظاہرے، دو ہلاک

پولیس نے اخوان المسلمون کے30 کارکنان کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں رابعہ العدویہ اسکوائر میں اخوان المسلمون کے مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کی پہلی برسی کے موقع پر مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قاہرہ کے نواحی علاقے جیزہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں اکتیس سالہ نوجوان مارا گیا ہے۔ وہ مظاہرے کے دوران گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ایک پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ قاہرہ میں ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ اخوان المسلمون کے تیس کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یادرہے کہ 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں جامعہ رابعہ العدویہ چوک میں پولیس اور فوج نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں مصر کی جدید تاریخ میں مظاہرین کے قتل عام کا بدترین سانحہ رونما ہوا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اسی ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ میں مصر میں گذشتہ سال دو احتجاجی کیمپوں میں سیکڑوں افراد کی ہلاکتوں کا حکم اعلیٰ عہدے داروں نے دیا تھا اور یہ انسانیت کے خلاف جرم تھا۔ تنظیم نے اقوام متحدہ سے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ گذشتہ سال مصر کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کی ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات کرے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے احتجاجی دھرنے کو ختم کرانے کے لیے مصری سکیورٹی فورسز نے آٹھ سو سترہ مظاہرین کو ہلاک کردیا تھا۔ رپورٹ میں مظاہرین کی ان ہلاکتوں کا موازنہ 1989ء میں چین میں تیانامن اسکوائر میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں سے کیا گیا ہے۔

درایں اثناء مصر کے سابق وزیراعظم حازم الببلاوی نے بعد از خرابیِ بسیار اعتراف کیا ہے کہ''گذشتہ سال النہضہ اور رابعہ اسکوائر میں دھرنوں کو ختم کرانا مصر کے لیے ایک سخت اور افسوس ناک دن تھا کیونکہ اس روز بہت سے افراد مارے گِئے تھے''۔ حازم ببلاوی ہی کی حکومت نے فوج کے دباؤ پر برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے ان دونوں دھرنوں کو طاقت سے ختم کرانے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے روزنامہ مصری الیوم سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ ''ان کی کابینہ نے ایک سخت انتخاب کیا تھا کیونکہ دھرنوں کے جاری رہنے سے سکیورٹی اور لوگوں کی زندگیاں کے لیے خطرات پیدا ہوگئے تھے جبکہ ان کو منتشر کرنے سے ہلاکتیں ہوئی تھیں''۔

انھوں نے کہا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کے حق میں ہے اور جس نے بھی غلطی کی ہے، اس کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''یہ ایک مصری درخواست ہے، مغربی نہیں۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان واقعات ،ان کی وجوہات اور مابعد حالات کی تحقیقات کا خیر مقدم کرتے ہیں''۔

مصر کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 14 اگست 2013ء کو اخوان کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں باسٹھ سکیورٹی افسر مارے گئے تھے اور گذشتہ ایک سال کے دوران حملوں میں دو سو پچھہتر پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما سینا میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں ہی کو جواز بنا کر مصر کی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا جبکہ اس کے سیاسی چہرہ حریت اور انصاف پارٹی پر گذشتہ ہفتے پابندی کر دی ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک سال کے دوران کریک ڈاؤن میں اخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان کو ہلاک کر دیا ہے اور مرکزی رہ نماؤں سمیت ہزاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔انھیں مصری عدالتوں نے مختلف الزامات میں موت اور قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ تاہم ابھی اخوان کے مرشد عام محمد بدیع سمیت کسی کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔