.

سلامتی کونسل : داعش کے خلاف برطانوی قرارداد پر ووٹنگ

پر تشدد کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی تیار کردہ قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعہ کے روز باضابطہ ووٹنگ ہو گی۔ اس قرارداد میں عراق و شام کو اسلامی ریاست بنانے کا دعوی رکھنے والی داعش کے خلاف اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

برطانیہ کو امید ہے کہ اس کی پیش کردہ قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی جائے گی۔ 'العربیہ' کے بیورو چیف نیویارک کے مطابق قرارداد میں دہشت گرد تنظیم داعش اور اس کے پرتشدد نظریات کے خلاف سخت مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد کے مطابق "داعش نے ایک منظم دہشت گردی کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بدترین پامالی شروع کر رکھی ہے۔ "قرار داد میں داعش اور النصرہ فرنٹ جیسی کسی بھی تنظیم کے ساتھ کسی بالواسطہ یا براہ راست تجارت کی بھی مذمت کی گئی۔

مسودہ قرارداد میں اقوام متحدہ کے ماہرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی 90 دنوں کے دوران تحقیقات کی جائیں نیز داعش اور النصرہ فرنٹ ایسی تنظیموں سے خطے کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا جائے۔

سلامتی کونسل کے ارکان سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں قومی سطح پر ایسے اقدامات کریں جن سے دہشت گردوں کا ساتھی بننے کے لیے جانے والے اپنے شہریوں کو روک سکیں اور انہیں عدلتی کٹہرے میں لائیں۔

واضح رہے عراق اور شام کو اسلامی ریاست بنانے کی دعویدار داعش نے موصل اور انبار میں اپنے اثرات بڑھانے کے بعد کردستان کی طرف پیش قدمی کی کوششیں کی ہیں۔ جبکہ اس دوران امریکی بمبار طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔