.

نائیجیریا: بوکو حرام نے بیسیوں لڑکے اغوا کر لیے

سخت گیر جنگجوؤں کا ریاست بورنو کے دور دراز گاؤں پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا کی سخت گیر جنگجو تنظیم بوکو حرام نے ملک کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے ایک دور دراز گاؤں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران بیسیوں لڑکوں اور مردوں کو اغوا کر لیا ہے اور انھیں ٹرکوں پر لاد کر اپنے ٹھکانوں کی جانب لے گئے ہیں۔

متعدد عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے چڈ جھیل کے کنارے واقع گاؤں دورن بگا میں کارروائی کی ہے۔ وہ فوج اور پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے اور انھوں نے متعدد گھروں کو نذرآتش کر دیا۔ ان کے حملے کے بعد ستانوے افراد لاپتا ہیں۔

نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے دارالحکومت میدغوری میں دوردراز کا سفر طے کرنے کے بعد پہنچنے والی ایک خاتون حلیمہ آدمو نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''بوکو حرام کے جنگجوؤں نے گاؤں میں پیچھے چھوٹے بچوں ،لڑکیوں اور خواتین کے سوا کسی کو نہیں چھوڑا ہےاور لڑکوں اور مردوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں''۔

اس خاتون اور اس گاؤں کے دوسرے باسیوں نے بتایا ہے کہ ''وہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے تھے اور وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کررہے تھے جس سے خوف وہراس پھیل گیا۔اس کے بعد انھوں نے مردوں اور لڑکوں کو اپنی گاڑیوں میں بٹھانا شروع کردیا اور یہ دھمکی دی کی کہ جس کسی نے بھی ان کی حکم عدولی کی،اس کو گولی مار دی جائے گی۔اس کے بعد ہر کوئی خوف زدہ تھا''۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا ہے کہ بوکوحرام کے جنگجوؤں نے چھے افراد کوگولی مار کر ہلاک کردیا ہے اور ان کی فائرنگ سے پانچ افرد زخمی ہیں۔نائیجیری فوج نے فوری طور پر اس واقعہ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے،ایک سکیورٹی عہدے دار نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ اس سے آگاہ ہے اور اس کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نائیجیری فوج نے ریاست بورنو میں جھیل چڈ کے آس پاس کے علاقوں میں بوکو حرام کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے بعد وہ اس علاقے سے جنوب کی جانب تین سو کلومیٹر دور کیمرون کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کی جانب چلے گئے تھے اور وہاں انھوں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔شیبوک کا قصبہ بھی اسی علاقے میں واقع ہے جہاں سے انھوں نے اپریل میں قریباً دو سو طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔

بوکو حرام کے مسلح جنگجوؤں نے 14 اپریل کو شیبوک میں ایک سکینڈری اسکول سے دو سو چھہتر طالبات کو اغوا کر لیا تھا۔اس واقعہ کے بعد اس جنگجو تنظیم نے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔اس نے یرغمال بنائی گئی اسکول کی دوسو سے زیادہ طالبات کی ایک ویڈیو جاری کی تھی اور جیلوں میں قید یا حکام کے زیر حراست اپنے جنگجوؤں کے بدلے میں انھیں رہا کرنے کی پیش کش کی تھی۔تاہم ان میں سے ایک سو سے زیادہ طالبات ان کے چُنگل سے بچ کر اپنے گھروں کو واپس جاچکی ہیں۔

بوکو حرام کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ پڑوسی ملک کیمرون کے شمالی قصبے کولوفاٹا میں ملک کے نائب وزیر اعظم عمادو علی کی اہلیہ کو اغوا کر لیا تھا۔انھوں نے کولوفاٹا کے مئیر اور مقامی مذہبی رہ نما (لامیدو ) سینی بوکارالامین کو بھی ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے اغوا کر لیا تھا اور اس کے حملے میں تین افراد مارے گئے تھے۔

اس جنگجو تنظیم نے حالیہ مہینوں کے دوران نائیجیریا سے سرحد پار کیمرون میں متعدد حملے کیے ہیں اور یہ حملے کیمرون کو ممکنہ طور پر سزا دینے کے لیے کیے جارہے ہیں کیونکہ اس نے بھی خطے میں جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے اپنے فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں۔ بوکو حرام کے جنگجو ایک عرصے سے نائیجیریا کے شمال میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔