'اسرائیل سے محبت' ملائیشن طالب علم کو مہنگی پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوب مشرقی ایشیائی مُسلمان ملک ملائیشیا کے باشندے ان دنوں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی پراسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت پر سخت رنجیدہ ہیں، لیکن ایک سترہ سالہ ایک طالب علم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر "میں اسرائیل سے محبت کرتا ہوں" کے عنوان سے ایک صفحہ تخلیق کر کے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا، جس کے بعد ملک کے عوامی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

پولیس نے سترہ سالہ طالب علم کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس نے دانستہ طور پر صہیونی ریاست سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے تو اسے کم سے کم تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ملائیشیا کے شمالی صوبے بینانگ کے پولیس چیف عبدالرحمان حنفی نے بتایا کہ حال ہی میں جب اسرائیلی جارحیت سے غزہ کی پٹی میں سیکڑوں بچے شہید ہو رہے تھے تو ایک طالب علم نے"مجھے اسرائیل سے پیار ہے" کہ عنوان سے فیس بک پر ایک صفحہ تیار کیا اور اپنے دوستوں کو اسے "لائیک" کرنے کی دعوت دی۔ صفحے کے "کور فوٹو" میں اس نے اسرائیل کا قومی پرچم رکھا ہے۔ طالب علم نے یہ متنازعہ اقدام اس وقت کیا جب صوبے بھر میں اسرائیلی بائیکاٹ کے لیے مہم عروج پر تھی۔

خبر رساں ایجنسی "اے اپف پی" کے مطابق فیس بک پر متنازعہ صفحہ تخلیق کرنے والے زیر حراست طالب علم نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ دانستہ طور پر نہیں کیا۔ تاہم پولیس اسے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ بینانگ ریاست کے محکمہ تعلیم کے ایک عہدیدار عثمان حسین کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو پولیس اور عدالتوں تک نہیں لے جانا چاہتے بلکہ خود حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک پر متنازعہ صفحہ تخلیق کرنے والا کوئی گروہ نہیں بلکہ ایک طالب علم ہے اور اس کی عمر ابھی تک سترہ سال ہے۔

ملائیشین طالب علم نے اسرائیل سے اظہار محبت کرکے نہ صرف ملائیشیا کے عوام بلکہ پورے عالم اسلام کو دکھی کرنے کے ساتھ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ ملائیشیا کے عوام اس کے اس اقدام پر سخت برہم ہیں اور مقامی سطح پر بہت کم افراد نے اس کے صفحے کو پسند کیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی مسلمان ملک ملائیشیا کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ملایشیا، فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرنے والے مسلمان اور عرب ممالک میں پیش پیش رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں