جوہری تنازع پر چار ماہ تک جامع معاہدے کا امکان نہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ پیش آئندہ چار ماہ تک ایران اور گروپ چھ کے درمیان تہران کے جوہری تنازع پر کسی قسم کے جامع معاہدے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات ویانا میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو محدود کیے جانے سے متعلق تازہ مذاکرات کے اختتام پر ایک انٹرویو میں کہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی نیوز ویب پورٹل"خانہ ملت" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام کے بارے میں حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اس میں کم سے کم چار ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔


ایک سوال کے جواب میں جواد ظریف نے کہا کہ جوہری معاملے پر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم نے مذاکرات کے شروع ہی میں یہ جان لیا تھا کہ اگر مغربی ملکوں کا طرز عمل مثبت اور رہا تو ہم جلد ہی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ گروپ چھ اور ایران کے درمیان پچھلے سات ماہ کے مذاکراتی عمل میں مغرب نے اپنی جانب سے لچک دکھائی ہے۔

امریکا کے ساتھ ایران کے براہ راست مذاکرات کے سوال پروزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ فی الوقت ایسا ممکن نہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ایران کے جن ممالک کے ساتھ دوطرفہ سفارتی تعلقات قائم ہیں ان سے براہ راست بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہی روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ نے جوہری تنازع پر مذاکرات کو بے مقصد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا خاطر خواہ نتنیجہ برآمد نہیں ہوا ہے کیونکہ ایران اب بھی عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم امریکا کی جانب سے خامنہ ای کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے تہران پرمزید کسی قسم کی اقتصادی پابندیاں عاید نہیں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں