یو این: داعش، النصرہ فرنٹ کے چھ اہم کمانڈر بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ جمعہ کو شدت پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے چھ اہم عسکریت پسندوں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئےانہیں عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان میں دولت اسلامی کا موجودہ ترجمان بھی شامل ہے۔ بعض کاتعلق شام اور عراق سے ہے جبکہ کچھ دوسرے عرب اور مسلمان ملکوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے والے داعشی رہ نما بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک موجود اپنے اثاثے حاصل کر سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بلیک لسٹ ہونے والے چھ کمانڈروں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان میں پہلا نام داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کا آتا ہے۔ العدنانی کا اصل نام طہ صبحی فلاحہ بتایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق طہ 'داعش' میں اثر و نفوذ رکھنے والا کمانڈر اور خلیفہ ابوبکر البغدادی کا مقرب خاص ہے۔ اس کا تعلق شام کے شہر ادلب سے ہے لیکن کچھ عرصہ قبل اسے عراق میں جعلی عراقی شہریت کے الزام میں پکڑا گیا۔ وہ پانچ سال تک جیل میں رہا اور چار سال قبل جیل سے رہا ہو کر شام واپس آ گیا تھا، جہاں سنہ 2012ء میں اس نے دولت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

فہرست میں دوسرا نام سعید عریف کا ہے۔ سعید الجزائری فوج میں افسر رہ چکا ہے۔ وہ سنہ 2013ء میں فرانس سے فرار ہوا اور شام میں النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد جنگ میں شامل ہو گیا۔

سعودی عرب کے عبدالرحمان الجھنی کا اصل نام عبدالرحمان محمد ظافر الدبیسی الجھنی ہے۔ اس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہے اور القاعدہ میں اسے 'ابو الوفاء' کی کنیت سے جانا جاتا ہے۔ سنہ 2011ء میں سعودی عرب نے جن مفرور اشتہاری دہشت گردوں کی فہرست جاری کی، ان میں الجھنی کا نام سر فہرست ہے۔ الجھنی کو افغانستان اور پاکستان سے ایران کے راستے جنگجوؤں کو شام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے والوں میں عبد المحسن عبداللہ ابراہیم الشارخ کا تعلق بھی سعودی عرب سے ہے۔ القاعدہ میں اسے 'سنافی النصر' کی کنیت سے جانا جاتا ہے۔ الشارخ افغانستان جنگ میں حصہ لے چکا ہے اور دیگر 85 اہم دہشت گردوں میں سعودی سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہے۔ اس نے کچھ عرصہ ایران میں بھی گذارا۔ وہاں سے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہدایت پر اس نے بلاد شام کا قصد کیا اور النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم رہا ہے۔

کویت سے تعلق رکھنے والا شدت پسند مبلغ حامد حمد حامد العلی کویت میں القاعدہ کے لیے فنڈ ریزنگ کرتا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے والے ایک جنگجو کا نام حجاج بن فہد العجمی ہے۔ وہ بھی کویت کا ایک سخت گیر مبلغ ہے اور النصرہ فرنٹ کے لیے رقوم جمع کرتا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے العجمی کو شام اور عراق میں دہشت گردوں کو رقوم فراہم کرنے والے عالمی دہشت گردوں میں شامل کر رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر العجمی کی تصاویر النصرہ فرنٹ کے صف اول کے قائدین کے ساتھ دیکھی گئی ہیں۔ پچھلے کئی سال سے اس پرکویت اور سعودی عرب میں رقوم جمع کرنے پر پابندی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں