سعودی عرب، کویت:یواین قرارداد پرعمل درآمد کا اعلان

قرارداد کے تحت دو سعودی اور دو کویتی شہریوں پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب اور کویت نے شام اور عراق میں برسرپیکار باغی جنگجو گروپوں کی مالی امداد کی بندش سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد سے اتفاق کیا ہے۔اس قرارداد میں ان دونوں ممالک کے چار شہریوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو اتفاق رائے سے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور القاعدہ سے وابستہ شامی باغیوں کے گروپ النصرۃ محاذ کے خلاف قرار داد کی منظوری دی تھی۔خلیجی میڈیا کی اطلاع کے مطابق سلامتی کونسل نے جن چھے افراد کو بلیک لسٹ قرار دیا ہے،ان میں دو سعودی عرب اور دو کویت کو اسلامی جنگجوؤں سے تعلق کے الزام میں مطلوب ہیں۔

اقوام متحدہ میں متعین کویتی سفیر منصور ایاد العتیبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2170 کی پاسداری کرے گا۔اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیر نے اپنے ملک کی جانب سے اس قرارداد پر عمل درآمد کی یقینی دہانی کرائی ہے۔

مغربی حکام کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور کویت کے شہریوں اور تنظیموں کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے والے سنی جنگجوؤں کو مالی امداد مہیا کی جارہی ہے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اعتدال پسند گروپوں کو براہ راست مالی امداد کی فراہمی سے متعلق احتیاط برت رہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسی سال دولت اسلامی عراق وشام اور النصرۃ محاذ کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیا تھا اور ان کی اخلاقی اور مالی امداد کرنے والے شہریوں کو قید کی سزائیں دینے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی حکومت نے علماء پر زوردیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان جنگجو گروپوں کو عطیات دینے یا ان میں شمولیت سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے داعش کو بہت پہلے دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور النصرۃ محاذ کو اسی سال کے اوائل میں دہشت گرد قرار دے دیا گیا تھا۔ان دونوں تنظیموں پر بھی القاعدہ کی طرح کی پابندیاں عاید ہیں۔

مذکورہ قرار داد کے تحت ان چھے افراد پر بین الاقوامی سفری پابندیاں عاید کی گئی ہیں ،ان کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں اور انھیں اسلحہ مہیا کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کے القاعدہ پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ داعش اور النصرۃ محاذ سے درپیش خطرے کے بارے میں نوے روز میں رپورٹ پیش کریں اور اس میں ان کی بھرتی اور فنڈنگ کی تفصیل بھی بیان کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں