.

حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے صنعاء میں حوثیوں کا مارچ

پاکستان اور یمن کو یکساں صورتِِ حال کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور یمن کو اِن دِنوں داخلی سطح پر ایک جیسے سیاسی حالات کا سامنا ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ملین مارچ اور دھرنے جاری ہیں۔ یمن میں اہل تشیع مسلک کے شدت پسند حوثی قبائل نے دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں افراد جمع کر رکھے ہیں جو حکومت کی فوری برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کا کہنا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قتیموں میں اضافہ واپس لینے اور حکومت کے خاتمے تک دھرنا جاری رکھیں گے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق حوثی شدت پسند لیڈر عبدالملک الحوثی کی کال پر ہزاروں افراد صنعاء میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ آج سوموار کو ہزاروں حوثی قبائل وسطی صنعاء میں انقلاب گراؤنڈ میں پہنچنا شروع ہوئے۔ دارالحکومت کی مرکزی شاہراہ الزبیری سے گذرتے ہوئے حوثیوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت سے فوری مستعفی ہونے کے مطالبات درج تھے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صنعاء میں حوثی شدت پسندوں کے ملین مارچ کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکاروں کو دارالحکومت میں اہم تنصیبات کی سیکیورٹی پر مامور کیا گیا ہے۔ کل اتوار کی شام حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے آئندہ جمعہ تک کی مہلت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ تک حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہو گی۔

حوثی لیڈر نے یمنی قوم سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ملین مارچ میں شامل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تمام اضلاع سے مشتعل ھجوم کے سیکڑوں قافلے دارالحکومت کی طرف چل پڑے ہیں۔

حوثیوں کے اہم مطالبات

صنعاء میں ملین مارچ کرنے والے حوثیوں کی جانب سے پہلا مطالبہ پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا ہے، لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کا بھی عزم لیے ہوئے ہیں۔ حوثی لیڈر عبدالملک کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور وہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت نے صنعاء میں دھرنے کو طاقت کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔

حوثیوں کے ایک مقرب ذریعے نے بتایا کہ ان کے حامی دارالحکومت صنعاء کے شمال، مشرق اور مغربی داخلی راستوں پر جمع ہو رہے ہیں، جہاں وہ اپنے لیڈر کی ہدایت پر غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے۔

عبدالملک الحوثی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد اقتدار ہاتھ میں لینا نہیں اور نہ ہی دارالحکومت کا نظام درہم برہم کرنا ہے۔ ہم پرامن طریقے سے حکمرانوں کو اقتدار سے الگ ہونے اور مہنگائی کی روک تھام کے لیے مطالبات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ جولائی کے اواخر میں یمنی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک غیر معمولی اضافہ کر دیا تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں 20 لیٹر پٹرول کی قیمت 2500 ریال سے بڑھا کر 4000 ریال کر دی گئی تھی جبکہ ڈیزل کے ایک کین کی قیمت 2000 ریال سے بڑھا کر 3900 کر دی گئی تھی۔

گو کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ شہریوں کی تنخواہوں میں اضافے کے مطابق کیا ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یمنی عوام کی اکثریت تنخواہوں سے استفادہ نہیں کر رہی۔ عالمی بنک کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں 54 فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی ان دنوں حکومت کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد میں دو الگ الگ سیاسی جماعتوں نے دھرنے دے رکھے ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف اور دوہری شہریت رکھنے والے علامہ طاہرالقادری نے پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کو دو روز کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ طاہر القادری کی ڈیڈ لائن آج رات ختم ہو جائے گی۔ یمنی حوثیوں کی طرح یہ دونوں جماعتیں ملک میں مہنگائی کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ نواز شریف حکومت کے اسعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔