.

ایران کسی ''قیمت'' پر جوہری سمجھوتا نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا کہنا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتا چاہتا ہے لیکن وہ اس پر کسی قیمت کے بدلے میں دستخط نہیں کرے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے ایک اعلیٰ مذاکرات کار ماجد تخت روانچی کا سوموار کو یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''ہم سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی پر مشتمل گروپ کے ساتھ خیرسگالی کے طور پر مزید مذاکرات کرنے والے ہیں۔ہم ایک سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس کی کوئی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر دوسرا فریق بھی خیرسگالی کا اظہار کرے تو ہم 24 نومبر سے قبل حتمی سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں''۔ ماجد تخت روانچی ایران کے نائب وزیرخارجہ برائے امریکی اور یورپی امور ہیں۔انھوں نے اسی ماہ جنیوا میں امریکی حکام سے بات چیت کے بعد تہران واپسی پر کہا تھا کہ ''ہم نے دوسری پارٹی سے کَہ دیا ہے کہ ''ہم یورینیم افزودگی کے ایسے پروگرام کو تسلیم نہیں کریں گے جو کھلونا بن کر رہ جائے''۔

واضح رہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان بات چیت میں طے شدہ امور کے تحت تہران 25 اگست تک ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنے جوہری پروگرام کی نوعیت اور جوہری ہتھیاروں کی تحقیق سے متعلق تفصیل سے آگاہ کرنے کا پابند ہے۔

ایران نے آیندہ سوموار تک آئی اے ای اے کے اس الزام کا جواب دینا ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز جوہری مواد کا تجربہ نہیں کیا ہے۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان 16 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے قبل مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔

ایران کے ایک اور اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ''اب شاید جنرل اسمبلی کے موقع پر وزارتی سطح پر بات چیت ہو۔البتہ اس سے قبل چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان دوطرفہ بات چیت ہوگی لیکن اس کی ابھی تاریخ اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''ایران سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ہم پُرامید ہیں اور ہمیں جدت پسندی کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کی عبوری مدت کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر 20 جنوری سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کی ابتدائی مدت 20 جولائی کو ختم ہوگئی تھی۔فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے پر اتفاق رائے نہیں ہوا تھا جس کے بعد عبوری سمجھوتے کی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع کردی گئی تھی۔اب اس کی مدت 20 نومبر کو ختم ہوگی۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کی افزدوگی کی تمام سرگرمیوں کو محدود کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید اقتصادی پابندیاں بتدریج نرم یا ختم کردی جائیں گی۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں چھے بڑی طاقتوں (امریکا،برطانیہ ،روس ،فرانس ،چین اور جرمنی) کی نمائندگی کررہی ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی تین مغربی ممالک ایران کو جوہری بم کی تیاری سے باز رکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو اس انداز میں محدود کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ جوہری بم بنانا چاہے تو اس کے لیے درکار ایندھن کی تیاری میں اس کو کم سے کم ایک سال کا وقت لگے لیکن روس اور چین نے اس کے بین بین موقف اختیار کررکھا ہے۔امریکا،اسرائیل اور ان کے مغربی اتحادی ایران کے بارے میں اس شک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔