ترکی :جاسوسی کی رپورٹ پر جرمن سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک وزارت خارجہ نے انقرہ میں متعین جرمن سفیر کو اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد طلب کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جرمنی اپنے نیٹو اتحادی ترکی کی گذشتہ کئی برسوں سے جاسوسی کررہا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جرمن سفیر ایبرہارڈ پوہل کو جرمن پریس میں شائع ہونے والی رپورٹس پر سوموار کو طلب کیا گیا ہے اور ان سے اس معاملے پر ناراضی اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

جرمن ہفت روزہ ڈیراسپیگل نے اپنی اتوار کی اشاعت میں یہ اطلاع دی تھی کہ جرمنی کی خفیہ ایجنسی بی این ڈی سنہ 2009ء سے ترکی کی جاسوسی کررہی تھی اور اس نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ٹیلی فون پر ایک گفتگو بھی سنی تھی۔

میگزین کے مطابق جرمن حکومت نے 2009ء میں ترکی کا جاسوسی کے لیے انتخاب کیا تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ سال جرمنی نے امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے چانسلر اینجیلا مرکل کی مبینہ جاسوسی اور ان کی فون کالز ٹیپ کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی لیکن اب خود جرمن انٹیلی جنس ایجنسی بھی وہی حرکت کرتی پائی گئی ہے اور وہ ترک عہدے داروں کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں