.

ایران کا عراق میں کردار کے لیے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر مغرب ان کے ملک پر عاید کردہ پابندیاں ختم کردے تو وہ عراق میں سخت گیر سُنی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کو تیار ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق جواد ظریف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر ہم عراق میں کچھ کرنے پر اتفاق کرتے ہیں تو مذاکرات کے دوسرے فریق کو بھی اس کے ردعمل میں کچھ کرنا چاہیے اورایران کے جوہری پروگرام پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے''۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف مغرب کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اس کے بدلے میں یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی ایک اور خبررساں ایجنسی مہر نے وزیر خارجہ جواد ظریف کا یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے:''ابھی یہ واضح نہیں کہ ہم عراق میں کیا کردار ادا کریں گے اور اس کے بدلے میں وہ کیا کریں گے اور یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا''۔

انھوں نے یہ مطالبہ فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کے اس بیان کے بعد کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران سمیت خطے کے تمام ممالک دولت اسلامی عراق وشام کے خلاف جنگ میں شریک ہوں۔

واضح رہے کہ ایران نے جون میں جوہری مذاکرات کے موقع پر امریکا کے ساتھ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ مستقل جوہری سمجھوتے کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان 16 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز سے قبل مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔اس سے قبل چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان دوطرفہ بات چیت ہوگی لیکن اس کی ابھی تاریخ اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔