کینیڈا:طلبہ، طالبات کا اسرائیلی مصنوعات مخالف بائیکاٹ

بائیکاٹ کرنے والی فیڈریشن تین لاکھ طلبہ کی نمائندگی کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے خلاف کینیڈا کے لاکھوں طلبہ و طالبات نے اپنے غم وغصہ کے اظہار کے لیے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

اس مر اکا اعلان کینیڈین فیڈریشن آف سٹوڈنٹس کے پلیٹ فارم سے کیا گیا ہے۔ یہ فیڈریشن کینیڈا کی جامعات اور کالجوں کے تین لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کی نمائندگی کرتی ہے۔

اسرائیلی ظلم وجبر کے خلاف سٹوڈنٹس فیڈریشن نے یہ فیصلہ اپنے سالانہ اجلاس کے دوران کیا ہے۔ طلبہ نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے پہلے سے جاری تحریک بی ڈی ایس کا ساتھ دینے کا اعلان ایک متفقہ قرار داد کی صورت میں کیا ہے۔

فیڈریشن کی مجلس عاملہ کی رکن انا گولڈفنچ نے اس بارے میں کہا'' قرار داد فیڈریشن کی رکن تنظیم رائیرسن سٹوڈنٹس یونین کی طرف سے پیش کی گئی تھی جس کی تائید کی گئی۔

آر ایس یو کے صدر راجین ہالیت کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انتاریو کی جامعات اور کالج اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ ساز باز کا حصہ ہوں گے اگر وہ اسرائیل کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ جاری رکھتے ہیں جس سے اسرائیل یا اس کی مجرمانہ جنگ کو فائدہ ہوتا ہو۔

ایک سوال کے جواب میں آر ایس یو کے صدر نے کہا ہم اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں اسی وجہ سے آر ایس یو نے اس معاملے پر بات چیت کا ایک شیڈول جاری کیا ہے۔ تاہم ان موقع پر یہود مخالف لوگوں یا اسلام فوبیا والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

واضح رہے اس قرارداد کی منظوری سے پہلے ماہ اگست کے دوران اسرائیل کےخلاف احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے موقع پر وزیر اعظم کینیڈا کی اسرائیل اور غزہ کے بارے میں پالیسی کے خلاف بھی غم غصہ ظاہر کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں