یحییٰ ولد حدمین موریتانیہ کے نئے وزیر اعظم مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

موریتانیہ میں صدر محمد ولد عبدالعزیز کی دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم ولد محمد الغظف نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کی جگہ یحییٰ ولد حدمین کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نواکشوط ایوان صدر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سابق محمد الغظف کی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد یحییٰ ولد حدمین کو نیا وزیر اعظم چنا گیا ہے اور انہیں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے باضابطہ دعوت دے دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں‌ موریتانیہ میں‌ہونے والے صدارتی انتخابات میں عوام کی بھاری اکثریت نے صدر محمد ولد عبدالعزیز کو دوسری مرتبہ ملک کا صدر منتخب کیا تھا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر نے نواجوانوں کے تمام شعبہ ہائے زندگی اور سیاست میں یکساں مواقع فراہم کرنے اور سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دورباہ انتخاب کے بعد ملک کے نوجوانوں میں ایک نیا جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔

صدر محمد ولد عبدالعزیز کو نوجوان طبقے ہی نے زیادہ ووٹ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نوجوانوں کا نمائندہ صدر بھی کہا جا رہا ہے۔ صدر نے ملک میں سیاسی اصلاحات اور انتخابات سے متعلق قوانین میں ترامیم کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

موریتانیہ مختلف نسلوں اور قبائل پر مشتمل ہے اور ہر قبیلے کی روایات دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے میں صدر کی جانب سے سیاسی شعبے میں اصلاحات کا اعلان زیادہ موثر ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ تاہم ان کے مفاد عامہ کے اقدامات سے کچھ تبدیلی ضرور آئے گی۔

موریتانیہ کی سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ صدر محمد ولد عبدالعزیز کی دوسری مدت میں کامیابی ان کی سیاسی مقبولیت کی علامت ہے مگر انہیں نئی حکومت کی تشکیل میں مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔ ایک مقامی تجزیہ نگار محمد عالی ولد احمدو نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حکومت کی تشکیل سیاسی، گروہی اور قبائلی تقسیم کے تناظرمیں عمل لائی جاتی ہے جبکہ نوجوانوں کی حکومت سے توقعات کم ہی پوری ہونے کا امکان ہے کیونکہ حکومت کو قبائلی مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے جس کے لیے اسے بعض اوقات نوجوان طبقے کی توقعات کے برعکس بھی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد طویل سیاسی مشاورت سے مسائل کے حل میں مدد لی جا سکتی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ موریتانیہ میں‌حکومت کی تبدیلی میں غیرضروری تاخیر کی گئی جس سے شکوک وشبہات نے جنم لیا ہے اور صدر مملکت محمد ولد عبدالعزیز اس تاخیر کا کوئی جواز بھی پیش نہیں کر سکے ہیں۔ بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر عبدالعزیز امریکا اور فرانس کے ساتھ بعض خارجی امور میں الجھے رہے جس کے باعث حکومت کی بروقت تبدیلی کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔

عالی ولد احمدو کا کہنا ہے کہ فرانس اور امریکا بھی موریتانیہ میں سیاسی تبدیلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان دونوں‌ ملکوں کی بھرپور کوشش یہ ہے کہ اپوزیشن کی زیادہ سے زیادہ جماعتوں اور شخصیات کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے صدر عبدالعزیز پر دبائو ڈالا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں