احمد داؤد اوغلو ترکی کے نئے وزیراعظم نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے نو منتخب صدر رجب طیب ایردوآن نے وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو کو نیا وزیراعظم اور حکمراں ترقی اورعدل پارٹی (آق) کا نیا سربراہ نامزد کردیا ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داؤد اوغلو کو ''متوازی ریاست'' کے خلاف جنگ میں ان کے پُرعزم کردار کی بنا پر آق پارٹی کا لیڈر اور وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے۔متوازی ریاست سے ان کی مراد نامور دینی دانشور فتح اللہ گولن کا مؤثر اور فعال نیٹ ورک ہے۔

انھوں نے انقرہ میں جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہم مل جل کر جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور میں صدر کی حیثیت سے متوازی ڈھانچے کے خلاف اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گا''۔

طیب ایردوآن نے مزید کہا کہ وہ داؤداوغلو کی ترکی کی کرد اقلیت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے حمایت کریں گے اور نئے آئین کی تدوین ان کی نئی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔

قبل ازیں آق کے بورڈ نے انقرہ میں ایک اجلاس میں وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو کو وزیراعظم اور پارٹی کا سربراہ نامزد کیا ہے۔اب آیندہ بدھ کو پارٹی کے اجلاس میں ان کی نامزدگی کی منظوری دی جائے گی اور توقع یہی ہے کہ ان کی مخالفت نہیں کی جائے گی۔

داؤد اوغلو وزیراعظم اور اب نومنتخب صدر طیب ایردوآن کے ادوار حکومت میں وزیرخارجہ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔وہ ان کے وفادار ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے حالیہ برسوں کے دوران ترکی کی خود انحصاری پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے مخالفیں انھیں ''نوعثمانی'' بھی قرار دیتے رہے ہیں۔ایردوآن 28 اگست کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور وہ اس کے ساتھ ہی وزارت عظمیٰ اور پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں