.

امریکی صحافی فولی کا برطانوی جنگجو نے سرقلم کیا؟

داعش کے سابق یرغمالی نے فولی کے برطانوی قاتل کو شناخت کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صحافی جیمز فولی کا سرقلم کرنے والے دولت اسلامی عراق وشام( داعش) کے برطانوی جنگجو کی شناخت ہوگئی ہے۔وہ لندن سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام ''جان'' ہے۔

جان کے ہاتھوں امریکی صحافی کے اندوہناک قتل کی ویڈیو منگل کو انٹر نیٹ کے ذریعے سامنے آئی تھی۔شام کے شمالی شہر الرقہ میں داعش کا یرغمال رہنے والے ایک شخص نے اس کے قاتل کی شناخت کی ہے اور اس نے بتایا ہے کہ ''جان'' اسی سال کے اوائل میں غیرملکی یرغمالیوں کا محافظ رہا تھا۔

برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق جان نے اس سال کے آغاز میں گیارہ غیرملکی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کار کا کردار ادا کیا تھا۔ان یرغمالیوں کو رہائی کے بعد ترک حکام کے حوالے کیا گیا تھا اور پھر انھیں ترکی سے ان کے آبائی ممالک کو روانہ کردیا گیا تھا۔

بیٹلز

ایک اور برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے لکھا ہے کہ ''جان'' ایک ذہین اور اعلیٰ تعلیم شخص ہے اور وہ داعش کا ایک بہت ہی جاں نثار اور وفادار جنگجو سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ''جان'' اور یرغمالیوں پر پہرے کی ڈیوٹی پر مامور رہنے والے ان کے دوسرے ساتھی برطانیہ کے مشہور پاپ بینڈ'' بیٹلز'' کے نام سے جانے جاتے تھے۔

درایں اثناء برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک بیان میں یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ داعش کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں نظرآنے والا جنگجو برطانوی ہی ہو۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی پولیس شام میں برسرپیکار ان جنگجوؤں کی شناخت کی کوشش کررہی ہے۔

برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے سابق سربراہ رچرڈ بیرٹ کا کہنا ہے کہ اس جنگجو کی شناخت کر لی جائے گی اور ایلیٹ اسپیشل ائیرسروس کو اس کو واپس لانے کے شام بھیجا جائے گا تا کہ اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

بیرٹ امریکا پر نائن الیون کے حملوں کے بعد ایم آئی سکس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے سربراہ رہے تھے۔انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اس قاتل کو گرفتار کر لیا جائے گا اور اس کو جلد یا بدیر مقدمہ چلانے کے لیے برطانیہ واپس لایا جائے گا۔

امریکی صحافی فولے کو بے دردی سے قتل کرنے کی ویڈیو میں ایک اور یرغمالی بھی دکھایا گیا ہے جس کا نام اسٹوین جوئل سوٹ لوف بتایا گیا ہے۔وہ ایک نارنجی سوٹ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا ہے۔فولے کا سرقلم کرنے والا جلاد صدر براک اوباما سے مخاطب ہو کر یہ کہ رہا ہے کہ ''اس امریکی قیدی کی زندگی کا انحصار آپ کے آیندہ فیصلہ پر ہوگا''۔

داعش نے اس سے پہلے امریکا اور دوسرے ممالک سے ان کی جیلوں میں قید غیرملکی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی نیورو سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہیں۔انھیں امریکا کی ایک عدالت نے القاعدہ سے تعلق کے الزام میں تراسی سال جیل کی سزا سنائی تھی اور وہ اس وقت ٹیکساس کی ایک جیل میں قید ہیں۔

امریکا نے مذکورہ ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔اس میں داعش نے مزید کہا ہے کہ اس نے صدر براک اوباما کی اس جنگجو گروہ کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں امریکی صحافی کو قتل کیا ہے۔

اس ویڈیو کا عنوان ''امریکا کے لیے ایک پیغام'' ہے۔یہ صدر اوباما کی ایک فوٹیج سے شروع ہورہی ہے جس میں وہ امریکی فوج کو شمالی عراق میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دے رہے ہیں۔دوروز پہلے اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد امریکی طیاروں نے شمالی عراق میں موصل ڈیم کے نزدیک داعش کے ٹھکانوں پر چودہ فضائی حملے کیے ہیں۔