.

سعودی عرب سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی محکمہ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران، ریاض کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان مرضیہ افحم نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ "ایران نے پہلے بھی سعودی عرب سے تعلقات کی بہتری کا اعلان کیا تھا، ہم دوبارہ وہی بات کرتے ہیں۔ تعلقات کی بہتری کے لیے وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ ریاض کا بھی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا تاہم مصروفیات کے باعث وہ ریاض نہیں جا سکے ہیں۔ جب بھی موقع ملا وہ سعودی عرب کے دورے پر ضرور جائیں گے"۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان روایتی اور فطری دوستانہ تعلقات ہیں۔ ہم ان تعلقات کو سفارتی میدان میں بھی مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ دونوں ‌ملکوں کے سفراء دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر کوششیں کریں گے۔

مرضیہ افحم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران خطے کے دو اہم ترین ملک ہیں اور خطے کے کئی تنازعات ان دونوں ملکوں کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ ان مسائل اور تنازعات کے حل کے لیے تہران سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں‌ ملکوں میں بات چیت کے لیے ماحول سازگار بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں ہم نے اپنا سفیر تبدیل کیا ہے۔ نئے سفیر کے ذریعے ہم دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی جانب گامزن ہو رہے ہیں۔ یہ سفارتی تبدیلی دونوں ‌ملکوں کے تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کرے گے۔

خیال رہے کہ ایران نے سعودی عرب میں حسین صادقی کو نیا سفیر مقرر کیا ہے۔ حسین صادقی نے گذشتہ اتوار کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کو ریاض میں اپنی اسناد سفارت پیش کی تھیں۔ ایرانی سفیر کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے وقت سری لنکا، نائجیر اور موریتانیہ کے سفیر بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ایران اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ایران اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کشیدگی کا اہم محرک شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں دونوں ‌ملکوں کا الگ الگ موقف بھی بتایا جاتا ہے۔ ایران مبینہ طور پر شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک دبانے کے لیے مداخلت کر رہا ہے، جس پر سعودی عرب سخت ناراض ہے۔

اس ناراضی کو دور کرنے کے لیے ایران کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی بھی متحرک ہیں۔ رواں سال 21 اپریل کو تہران میں سعودی عرب کے سفیر عبدالرحمان بن گرمان سے ملاقات میں ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کے خصوصی دورے پر جانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا سعودی عرب اور ایران کی باہمی رنجش سے اسلام دشمن خوش ہو رہے ہیں۔ دونوں مسلمان ممالک کی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ان تمام متنازعہ مسائل کا بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے جو کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔