.

شامی بحران کے حل سے'داعش' کو شکست دیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے کہا ہے کہ شام کے بحران کے حل سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" کو شکست دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی حکومت عراق میں داعش کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے بغداد اور صوبہ کردستان کو بھاری ہتھیار فراہم کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار وزیر دفاع چک ہیگل کے ہمراہ وائٹ ہائوس میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر وزیر دفاع مسٹر ہیگل کا کہنا تھا کہ "بشارالاسد کی اقتدار سے علاحدگی شام کے بحران کے حل کا جز لازم ہے"۔

داعش کی عراق اور شام میں بڑھتی سرگرمیوں اور تنظیم کےخلاف امریکا کی تازہ کارروائیوں بارے میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ "داعش" القاعدہ سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے اور اس سے پورے عرب خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ محض فضائی حملوں سے داعش کی بیخ کنی نہیں کی جا سکتی۔ فضائی آپریشن سے وہ عارضی طور پر منتشر ہو گی مگر دوبارہ متحدہ ہو کر حملے کر سکتی ہے۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ داعش کی سرکوبی کے لیے عرب ممالک کا تعاون ضروری ہے۔ اس ضمن میں ہم مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ داعش کےخلاف ہم ایک اتحاد قائم کریں گے اور مل کر اس کے خطرے سے نمٹیں گے۔ تاہم اس کے لیے طویل المیعاد حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہو گی۔