.

شام میں 50 ملکوں کے ‌12 ہزار جنجگو لڑ رہے ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کےخلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک میں 50 ملکوں کے 12 ہزار جنگجو بھی میدان جنگ میں موجود ہیں۔ ان میں کچھ امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری حرف نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا سے بیرون ملک مختلف جنگی محاذوں میں حصہ لینے والے امریکی سب کے سب شام میں نہیں‌ بھی ہو سکتے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کیا دولت اسلامی عراق وشام "داعش" اور دیگر شدت پسند گروپوں میں کتنے امریکی شامل ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق امریکی حکومت کے بعض ذرائع بیرون ملک جنگ میں شامل امریکی باشندوں کی تعداد 100 بتاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترشام میں مختلف عسکری گروپوں کے پرچم تلے لڑ رہےہیں۔

امریکی حکومت کےذرائع کے مطابق شام کی تحریک بغاوت میں حصہ لینے والے بیشتر امریکی عراق اور شام میں اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرنے والی تنظیم "داعش" کے ساتھ وابستہ ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت "داعش" کی تیزی کے ساتھ فتووحات سے سخت پریشان ہے لیکن وہ ابھی تک ان گروپوں کی نشاندہی نہیں ‌کر سکی جو امریکا، یورپ اور دوسرے غیر ملکوں کے باشندوں کو داعش کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔

امریکا اور مغرب داعش میں شامل اپنے شہریوں کو خود اپنے ملکوں کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ یورپی حکومتیں اس خدشے کا برملا اظہار کر چکی ہیں کہ داعش میں شامل ہونے والے جنگجو وطن واپسی پر اپنے آبائی ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ادھر امریکی صدر کی اپیل پر ستمبر کے آخر میں ایک ایک سربراہ کانفرنس کی بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سلامتی سے متعلق اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں دولت اسلامی جیسے گروپوں کو خطرہ سمجھنے والے ممالک خاص طور پر شامل ہوں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے حال ہی میں اپنے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور آسٹریلیا شام میں بیرون ملک سے جنگ میں شامل ہونے والے جہادیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے پر متفق ہیں۔