.

جرمنی کی قطر سے داعش کی مالی مدد کے الزام پر معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے اپنے ایک وزیر کے قطر کے خلاف سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی مالی معاونت سے متعلق الزامی بیان پر معذرت کی ہے۔ ایک جرمن وزیر نے دو روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ قطر داعش کی مالی اعانت کر رہا ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر اس بیان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تو ہم اس پر معذرت خواہ ہیں''۔جرمنی کے ترقیاتی امداد کے وزیر جرڈ میولر نے بدھ کو سرکاری ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں اس طرح کی اطلاع کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں''۔

میولر نے بدھ کو سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اس طرح کی اسٹوری کی ہمیشہ ایک تاریخ ہوتی ہے۔ان دستوں کی کون مالی معاونت کر رہا ہے؟اشارہ :قطر''۔

قطر نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سخت گیر داعش کے جنگجوؤں کی ہرگز بھی مالی معاونت نہیں کررہا ہے۔میولر کی وزارت کی خاتون ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے صرف پریس رپورٹس کا حوالہ دیا تھا اور کوئی ٹھوس الزام عاید نہیں کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ قطری حکومت نے دوحہ میں جرمن سفارت خانے سے وزیر کے اس بیان پر بات چیت کی ہے۔ہم نے قطری حکومت کو بتایا ہے کہ ''وفاقی حکومت کے لیے قطر ہمارا شراکت دار ہے جس کے ساتھ ہم مختلف طریقوں سے مل کر کام کررہے ہیں۔اس کے باوجود اگر ہماری ایک جیسی رائے نہ ہو تو کچھ سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ ''جرمنی کے قطر کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔انھوں نے قطر کو ایک اہم علاقائی کھلاڑی قرار دیا ہے''۔

جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر نے اسی ہفتے کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی عراق میں داعش کے خلاف کرد سکیورٹی فورسز کو ہتھیار مہیا کرنے کو تیار ہیں۔واضح رہے کہ جرمنی نے دوعالمی جنگوں میں جارحیت کی تاریخ کی وجہ سے حالیہ برسوں کے دوران کسی بھی ملک میں فوجی مداخلت نہیں کی ہے اور نہ اس نے پہلے کبھی جنگ زدہ علاقوں میں ہتھیار بھیجے ہیں۔