وفاقی نظام عراق سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نائب صدر نے عراق میں دہشت گردی کے خطرات کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی داخلی تقسیم کے پیش نظر متحد ہونے کی ضرورت پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق میں وفاقی نظام کی حمایت کرے گا۔

امریکی اخبار میں 'واشنگٹن پوسٹ' کے ایک کالم میں بائیڈن نے لکھا ہے کہ امریکا، عراق میں دولت اسلامی [داعش] کے خلاف حکام کی حمایت کو بڑھانے کے لئے تیار ہے اور اپنے بین الاقوامی اتحادیوں پر زور ڈالے گا کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔

بائیڈن نے خبردار کیا کہ گہری فرقہ واریت تقسیم اور سیاسی بد اعتمادی نے عراقی سیکیورٹی فورسز کی طاقت کو کھوکھلا جبکہ داعش جیسے جنگجوئوں کو طاقت بخش دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک کارآمد وفاقی حکومت عراق میں تقسیم کے خاتمہ کر سکتی ہے۔ بائیڈن امریکا کی جانب سے عراق کو تین نیم خودمختار علاقوں میں تقسیم کرنے کے پرانے حامی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت عراق کو شیعہ، سنی اور کرد نیم خودمختار علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا "امریکا اس ماڈل کی کامیابی کے لئے اسٹریٹیجک فریم ورک معاہدے کے تحت ٹریننگ اور دوسرے شعبوں میں مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔" بائیڈن نے مطالبہ کیا کہ عراق کے تمام فریق اپنے موقف میں حقیقی طور پر سمجھوتہ کریں۔

امریکی نائب صدر کے مطابق:"ہم یہ اقدام عراقیوں سے زیادہ نہیں چاہ سکتے ہیں۔ جب تک عراق یہ اقدام نہیں اٹھا سکتا ہے اس وقت تک کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔"

مسٹر بائیڈن نے ایک طویل المیعاد چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ جنگ عراق، امریکا اور دنیا کی مدد سے ہر صورت جیتے گا۔"
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ خطرہ عراق تک محدود نہیں ہے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ خطے کی طاقتوں اور شامی حزب اختلاف داعش کے مقابلے کے لئے مسلسل حمایت کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں