.

ایران کا اسرائیلی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ

ڈرون نطنز کی ممنوعہ فضائی حدود میں دراندازی کی کوشش کررہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پاسداران انقلاب نے نطنز میں واقع جوہری تنصیب کی ممنوعہ فضائی حدود میں پرواز کرنے والے اسرائیل کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے (ڈرون) کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ڈرون نطنز کے ممنوعہ علاقے میں دراندازی کی کوشش کررہا تھا اور پاسداران انقلاب نے اس کو زمین سے فضا میں مار کرانے والے میزائل سے مار گرایا ہے۔

خبررساں ادارے رائیٹَرز نے اسرائیلی فوج کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ اس نے اپنے ڈرون کو ایران میں مارگرائے جانے کے حوالے سے غیرملکی میڈیا کی رپورٹس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کی جاسوسی کی اطلاعات گاہے گاہے منظرعام پر آتی رہی ہیں۔اسرائیل اور اس کے پشتی بان مغربی ممالک کو شُبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

جوہری تنازعے پر مذاکرات

ایران اپنے جوہری پروگرام پر جاری تنازعے کے حل کے لیے امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کے ساتھ حتمی معاہدے کی غرض سے مذاکرات کررہا ہے۔ایران نے مغربی ممالک کے ساتھ گذشتہ سال نومبر میں طے پائے عبوری سمجھوتے کے تحت اپنی یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیوں پر قدغنیں عاید کی تھیں۔اس کے بدلے میں امریکا اور یورپی یونین نے ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

لیکن اسرائیل نے اس عبوری سمجھوتے کو مسترد کردیا تھا اور اس کو بہت بڑی تاریخی غلطی قرار دیا تھا۔صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے لیے فوجی آپشن ضروری ہے۔

درایں اثناء ایران نے اطلاع دی ہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف یکم ستمبر کو برسلز میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن سے ملاقات کریں گے اور ان سے جوہری تنازعے پر ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

کیتھرین آشٹن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی پر مشتمل گروپ چھے کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کررہی ہیں اور ان کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مغرب کی تشویش کو دور کرنا ہے۔ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایرنا کو بتایا ہے کہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ حتمی جوہری سمجھوتے کے لیے مذاکرات کا آیندہ دور 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل نیویارک میں ہوگا۔