لیبیا: 'فجر' اور 'انصار الشریعہ' دہشت گرد گروپ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کی پارلیمنٹ نے ملک میں عسکری کارروائیوں میں ملوث قرار دی گئی دو تنظیموں 'فجر لیبیا' اور 'انصار الشریعہ' کو دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔ پارلیمان نے الفجر گروپ کی جانب سے لیبی نیشنل کانگریس سے اقتدار نئی حکومت کو حوالے کرنے کے فیصلے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

لیبیا میں جاری سیاسی کشیدگی اور دو عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دینے کی سفارش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دارالحکومت طرابلس کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ تین جولائی کے بعد سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔ ہوائی اڈے پر جھڑپوں میں اب تک 200 افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر کرنل عبدالرزاق الناظوری کو نیا آرمی چیف مقرر کیا ہے۔ دوسری جانب لیبیا کی نیشنل کونسل نے بھی اقتدار حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ادھر لیبیا کی قومی اسمبلی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ مسلح افواج کے سربراہ کے عہدے کے لیے جنرل عبدالسلام جاد اللہ العیدی کی جگہ لینے کے لیے تین ناموں پر غور کیا گیا تھا۔ ان میں کرنل عبدالرزاق الناظوری، بریگیڈئر جنرل مسعود ارحومہ اور العید رمضان البرعصی شامل تھے۔ تاہم ان میں کرنل الناظوری کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔

نیشنل کانگریس کے ترجمان عمر حمیدان نے ایک مقامی ٹی وی کو بتایا کہ 'جی این سی' کا طرابلس میں ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں اقتدار کی منتقلی اور ریاست کی بالادستی کی ضمانت پر صلاح مشورے کے بعد اقتدار کی منتقلی کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔

طرابلس ہوائی اڈے سے فوج کا انخلا

لیبیا کے ایک فوجی ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ فوج کے زیر انتظام وہ تمام فوجی یونٹ جو طرابلس کے ہوائی اڈے پر شورش پسندوں کے خلاف بر سر پیکار تھے، حالات معمول پر آتے ہی منظم انداز میں وہاں سے نکل آئیں گے۔ فوجی ذریعے کا کہنا تھا کہ طرابلس ہوائی اڈے پر عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی ابھی ختم نہیں ‌ہوئی ہے۔

عسکری ذریعے نے شدت پسند تنظیم"فجر لیبیا" کی جانب سے نیشنل کانگریس سے اقتدار نئی حکومت کو سپرد کرنے کے مطالبے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ‌کے ہوتے ہوئے نیشنل کانگریس پر کوئی عسکری گروپ اقتدار کی منتقلی کے لیے کیسے دبائو ڈال سکتا ہے۔

وزیر دفاع برطرف

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے باغیوں اور عسکریت پسندوں کو اسلحہ اور جنگی سامان فراہم کرنے کے الزامات کے بعد وزیر دفاع خالد الشریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ الشریف پر الزام تھا کہ انہوں ‌نے الزنتان شہر میں حکومت مخالف باغیوں کو جنگی سازو سامان فراہم کیا تھا۔

لیبیا کے میڈیا رپورٹس میں بھی خالد الشریف کے عسکریت پسندوں‌کے ساتھ تعلقات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ رپورٹس کے بعد وزیر اعظم نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

درایں اثناء مصراتۃ بریگیڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کئی ہفتوں کی خون ریز جھڑپوں کے بعد فوج نے طرابلس کے ہوائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی طرابلس ہوائی اڈے پر فوج کے کنٹرول کی خبریں اور تصاویر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ہوائی اڈے کے قریب ایک سرکاری عمارت میں مصراتۃ شہر میں فوج اہلکاروں کو ہوائی اڈے پر کنٹرول کا جشن مناتے دیکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں "فجر لیبیا" نامی گروپ نے طرابلس کے ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد نیشنل کانگریس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقتدار منتخب پارلیمنٹ فوری طور پر واپس لے۔ فجر لیبیا نے زنتان شہر کے باغیوں کے ساتھ لڑائی کے بعد طرابلس کے ہوائی اڈے پرقبضے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں