.

ایران نے مار گرائے اسرائیلی ڈرون کی ویڈیو نشر کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے سوموار کو ایک فوٹیج نشر کی ہے جس میں ایک روز قبل ایک جوہری تنصیب کے نزدیک اسرائیل کے مارگرائے گئے ڈرون کا ملبہ دکھایا گیا ہے۔

عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے العلام ٹی وی نے مختصر ویڈیو میں تباہ شدہ ڈرون کے مختلف حصوں اور آلات کو دکھایا ہے جو ایک نامعلوم صحرائی علاقے میں بکھرے پڑے ہیں۔فوٹیج کے ساتھ چلنے والے سکرول میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون کو ہفتے کے روز مارگرایا گیا تھا۔

اس میں ڈرون کی شناخت ہرمیس 450 کے نام سے کی گئی ہے۔یہ ایک معروف اسرائیلی ماڈل ہے۔ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کا نام ''جاسوس دیوی'' بھی ہے۔تاہم فوٹیج میں اس بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے اوپر کوئی واضح اسرائیلی نشان نہیں دیکھا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ڈرون کے معاملے پر کوئِی بات کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ ایرانی حکام نے بھی صحافیوں کے رابطہ کرنے پر ڈرون سے متعلق کوئی مزید تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔اس جاسوس طیارے کو غیر ملکی میڈیا کوبھی نہیں دکھایا گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو زمین سے فضا میں مار کرانے والے میزائل سے اسرائیل کے اس بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو مار گرانے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیلی ڈرون نطنز کے ممنوعہ علاقے میں دراندازی کی کوشش کررہا تھا۔یہ علاقہ ایرانی دارالحکومت سے 240 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

پاسداران انقلاب کی خلائی ڈویژن کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادے نے سوموار کو یہ بات بالاصرار کہی ہے کہ تباہ شدہ ڈرون اسرائیل ہی کا ہے۔تاہم اس نے اپنی آخری اڑان اسرائیل سے نہیں بھری تھی۔

حاجی زادے نے بتایا ہے کہ یہ ڈرون آٹھ سو کلومیٹر تک پرواز کرسکتا ہے۔اس کے دوسامنے اور دو سائیڈ کی طرف کیمرے تھے۔اسرائیل ایران کی مغربی سرحد سے ایک ہزار سو کلومیٹر دور واقع ہے اور نطنز اس سرحد سے چھے سو کلومیٹر ملک کے اندر واقع ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ڈرون کی آپریشن رینج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے ابھی پروازیں شروع نہیں کی تھیں اور یہ خطے میں کسی ملک کی جانب سے روانہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے تو ڈرون مار گرانے کے ایرانی دعوے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے لیکن اس ڈرون کو بنانے والی کمپنی البیٹ کا کہنا ہے کہ اس کی رینج تین سو کلومیٹر تک ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل سے اڑان بھرنے کے بعد تو ایران نہیں پہنچ سکتا ہے۔