بچے امریکی صحافی کے سر قلم کرنے نقالی کرنے لگے

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر تصاویر پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں داعش سے وابستہ ایک مغربی ملک کے مشتبہ جنگجو کے ہاتھوں یرغمال امریکی صحافی کے سر قلم کئے جانے کی تصاویر کی ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تشہیر سے متاثر ہو کر ننھے بچوں نے بھی اس وحشیانہ اقدام کی نقالی شروع کر دی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری ایک نئی تصویر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک نقاب پوش بچہ امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کے منظر کی نقالی کرتے ہوئے داعش کے جھنڈے کے سامنے ایک گڑیا کا سر کاٹ رہا ہے۔

"خلافت کا وقت آ چکا" کے نام سے ٹویٹر ہینڈلر سے جاری ہونے والی اس تصویر کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ اپنے بچوں کو گلے کاٹنا سکھا دو، کل یہاں بہت سے بے ایمان سر سامنے آئیں گے۔ اس اکائونٹ نے امریکی صحافی کے قتل پر مبنی تصاویر اپنے 3500 فالورز کے لئے جاری کیں۔

حالیہ تصاویر میں ایک فوٹو میں نامعلوم بچے کو داعش کے جھنڈے کے سامنے ایک گڑیا کو بالوں سے پکڑے کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری تصویر میں گڑیا کا تن سے جدا سر فرش پر پڑا دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تصاویر یو ٹیوب اور ٹویٹر کی جانب سے انتہا پسندوں کے اکاونٹس کے خلاف کریک ڈائون شروع کرنے کے اعلان کے بعد جاری کی گئی تھیں۔

ٹویٹر کے چیف ایگزیکیٹو ڈِک کوستولو کا کہنا تھا: "ہم کسی بھی سنگین نوعیت کی تصاویر جاری کرنے والے اکائونٹس کو بند کرتے آ رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔"

جیمز فولی کو گذشتہ ہفتے قتل کیا گیا اور انہیں قتل کرنے والے جنگجو کے لہجے سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ برطانوی شہری ہے۔

داعش کی جانب سے جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو میں دکھائی دینے والے نقاب پوش جنگجو نے فولی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ"یہ جیمز رائٹ فولی ہے، تمھارے ملک کا امریکی شہری۔ بطور حکومت تم [امریکا] داعش کے خلاف جارحیت کو بڑھانے میں پیش پیش رہے ہو۔ تم نے ہمارے خلاف منصوبہ بندی کی اور تم نے ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے کے لئے بہت جتن کئے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں