غزہ حملہ:ہولوکاسٹ کے متاثرین کی اسرائیل پر تنقید

ارضِ فلسطین پر قبضے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نازی جرمنوں کے ہاتھو یہود کے مبینہ قتل عام کی مہم ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے تین سو سے زیادہ افراد اور ان کے لواحقین نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں اور ان میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔

ان افراد اور خاندانوں نے ایک بیان جاری کیا ہے اور اس کو نیویارک ٹائمز میں بائیں بازو کی تنظیم عالمی یہود صہیونیت مخالف نیٹ ورک نے اشتہار کے طور پر شائع کیا ہے۔ یہ بیان ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے ایک اور یہودی ایلی ویزل کے اشتہار کے جواب میں شائع کرایا گیا ہے۔اس نے فلسطینی جماعت حماس کا نازیوں سے موازنہ کیا تھا۔

اس اشتہار پر ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے چالیس افراد اور دیگر خاندانوں کے دوسوستاسی لواحقین اور دوسرے رشتے داروں کے دستخط ہیں ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ''نازی جرمنوں کی نسل کشی کی مہم میں زندہ بچ جانے والے یہود کے طور پر ہم غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں اور تاریخی ارضِ فلسطین پر قبضے اور اس کو نوآبادیانے کی بھی مذمت کرتے ہیں''۔

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے باوجود اسی قسم کا لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے۔انھوں نے بھی اتوار کو نیوزکانفرنس کے دوران ''حماس داعش ہے ۔داعش حماس ہے'' کے نعرے بلند کردیے تھے اور بعد میں ٹویٹر پر بھی یہی تحریر پوسٹ کی تھی اور اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں بھی ''حماس داعش ہے اور داعش حماس ہے'' کی مالا جپتے رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں