مصر کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئی تجویز

اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک صحافی سمیت مزید 9 فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ رکوانے کے لیے سوموار کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے کی سرحدی گذرگاہیں کھل سکیں گی اور وہاں امدادی اور تعمیراتی سامان بھی لے جانے کی اجازت ہوگی جبکہ اس دوران اسرائیلی فضائیہ نے نہتے فلسطینیوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں مزید نوافراد شہید ہوگئے ہیں۔

ایک فلسطینی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل مصر کی اس نئی تجویز کو تسلیم کرتا ہے تو وہ بھی اس کو ماننے کو تیار ہوں گے۔ایک مصری عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے مصالحت کاروں نے فلسطین اور اسرائیل سے نئی تجویز کے سلسلہ میں رابطہ کیا ہے اور انھوں نے اس پر غور کے لیے وقت مانگا ہے۔

فلسطینی عہدے دار نے مصر کی جانب سے جنگ بندی کی پیش کردہ نئی تجویز کے خدوخال بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''اس کے تحت عارضی جنگ بندی ہوگی۔بارڈر کراسنگز کھول دی جائیں گے اور غزہ کی پٹی میں امدادی و تعمیراتی سامان لے جانے کی اجازت ہوگی جبکہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تمام متنازعہ نکات پر ایک ماہ کے اندرغور کیا جائے گا''۔

فلسطینی مذاکراتی وفد میں شامل اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ہم اس تجویز کو قبول کرنے کو تیار ہیں اور اسرائیلی ردعمل کے منتظر ہیں''۔ایک اور فلسطینی عہدے دار نے کہا ہے کہ مصر آیندہ اڑتالیس گھنٹوں میں فلسطینی اور اسرائیلی مذاکراتی ٹیموں کو اس نئی تجویز پر بات چیت کے لیے مدعو کرسکتا ہے۔

قبل ازیں مصر کی ثالثی میں پانچ روزہ عارضی جنگ بندی 19 اگست کو ختم ہوگئی تھی اورصہیونی فضائیہ نے غزہ شہر اور دوسرے علاقوں پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔مصری مصالحت کار فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں متنازعہ امور سے متعلق خلیج کو پاٹنے میں ناکام رہے تھے۔

درایں اثناء اہلِ غزہ نے بتایا ہے کہ انھیں ان کے موبائل فونز اور لینڈ لائنز نمبر پر ریکارڈ پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی مکان سے یہودیوں پر حملہ ہوا تواس کو نشانہ بنایا جائے گا۔غزہ کے مکینوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کے زیر استعمال علاقوں سے دور رہیں۔

اس سے پہلے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید نو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے نزدیک واقع علاقوں میں آباد ہزاروں یہودی اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہورہے ہیں یا ہوچکے ہیں۔

حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کی جانب راکٹ فائر کرنے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ان میں سے ایک راکٹ کو اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا تھا۔ان راکٹ حملوں کے بعد تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے کے آس پاس آباد یہودیوں کو انتباہ کے لیے سائرن بجائے گئے ہیں۔صہیونی فوج کے ایک بیان کے مطابق سوموار کو جنوبی اسرائیل کی جانب ایک سو راکٹ فائر کیے گئے ہیں اور ایک مارٹر بم کے دھماکے میں ایک اسرائیلی زخمی ہوگیا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیارے نے غزہ کی پٹی کے سرحدی قصبے بیت لاہیا میں چار مکانوں پر بمباری کی ہے۔اس حملے میں دو خواتین اور ایک لڑکی شہید ہوگئی ہے۔غزہ شہر اور اس کے آس پاس اسرائیلی طیارے کی بمباری میں ایک صحافی سمیت چھے اور افراد شہید ہوئے ہیں۔ان میں تین افراد ایک کار پر میزائل حملے میں شہید ہوئے ہیں۔غزہ میں شہید صحافی کا نام عبداللہ مرتضیٰ بتایا گیا ہے۔

غزہ میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ ایک اسرائیلی طیارے نے سوموار کی شب نماز عشاء کے وقت شہر کے نواح میں واقع ایک مسجد پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پچیس فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں 8 جولائی کو اسرائیلی فوج کی جارحیت کے آغاز کے بعد سے دو ہزار ایک سو تئیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں قریباً پانچ سو کم سن بچے ہیں۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ دوبدو لڑائی یا ان کے راکٹ حملوں میں چونسٹھ صہیونی فوجی اور چار عام یہودی ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں