نارویجین مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیموں کے خلاف ریلی

وزیر اعظم سمیت مسلمان برادری کی بڑی تعداد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یورپی ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مسلم برادری نے انتہا پسند اسلامی تنظیموں کے خلاف ایک مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں ناروے کے وزیر اعظم سمیت کئی سیاسی رہنمائوں نے شرکت کی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ریلی کا اہتمام نوجوان نارویجین مسلمانوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ریلی کا مقصد عراق اور شام میں دولت اسلامی [داعش] کے نام سے سرگرم انتہا پسند تنظیم اور ناروے میں موجود اس کے حمایتیوں کے خلاف مسلم برادری کا اتحاد دکھانا تھا۔

ناروے میں اسلامی کونسل کے سربراہ مھتاب افشار نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "وہ [داعش] دہشت گردی پھیلانے کے لئے کام کرتے ہیں اور ہم ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ناروے میں ایک چھوٹے انتہا پسند گروپ نے دولت اسلامی کے جنگجوئوں کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے ملک کی تارکین وطن برادریوں کے اعتدال پسند مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔

نارویجین سیکیورٹی سروس کے مطابق کم از کم 50 افراد ناروے سے شام پہنچ چکے ہیں تاکہ مسلح گروپوں کے لئے غیر ملکی جنگجوئوں کے طور پر جنگ میں حصہ لے سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں