.

سعودی عرب :داعش کے بھرتی کنندگان کا گروہ پکڑا گیا

داعش کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں 8 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بیرون ملک انتہا پسند گروپوں کے لیے نوجوان کو بھرتی کرنے کی کوشش کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کررہے تھے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے منگل کو وزارت داخلہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ''سکیورٹی حکام نے سوموار کو ایک کارروائی کی تھی جس کے دوران آٹھ شہریوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔یہ افراد بیرون ملک انتہا پسند گروپوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے کام میں ملوث تھے''۔

سعودی عرب نے جنگجو گروپوں کے خلاف سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران مملکت میں مختلف عرب ممالک میں برسرپیکار انتہا پسند عناصر سے تعلق کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مئی میں سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے شام اور یمن سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی دہشت گرد تنظیم کو توڑنے کی اطلاع دی تھی۔اس تنظیم سے تعلق کے الزام میں باسٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر سعودی عرب کی سرکاری تنصیبات اور غیرملکی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مارچ میں سعودی وزارت داخلہ نے دہشت گرد قرار دیے گئے گروپوں کی ایک فہرست جاری کی تھی۔اس میں مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون،شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ اور حالیہ مہینوں کے دوران سب سے زیادہ شہرت پانے والے جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام ( داعش) کا نام شامل تھا۔

اس فہرست میں سعودی عرب میں کام کرنے والی ایک غیر معروف شیعہ تنظیم حزب اللہ اور پڑوسی ملک یمن میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے حوثی شیعہ باغیوں کی جماعت کا نام بھی شامل تھا۔

وزارت داخلہ نے بیان میں واضح کیا تھا کہ ان مذکورہ گروپوں کی مالی اور اخلاقی مدد کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔اس کے علاوہ جو کوئی میڈیا اور سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ان جنگجو گروپوں کی تشہیر وتبلیغ کرے گا تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔