.

امریکی صحافی فولی ایک سال قبل قتل ہوا: بثنیہ شعبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد کی میڈیا ایڈوائزر بثنیہ شعبان نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ تازہ نہیں بلکہ ایک سال پرانی ہے کیونکہ فولی کو دولت اسلامی "داعش" کے جنجگوئوں نے ایک سال پہلے قتل کر دیا تھا۔

بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بثنیہ شعبان کا کہنا تھا کہ امریکی صحافی جیمز فولی کو گذشتہ برس قتل کیا گیا تھا تاہم اس کے قتل کے وقت تیار کردہ ویڈیو فوٹیج حال ہی میں منظر عام پر لائی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا کہ اقوام متحدہ کو بھی جیمز فولی کے قتل کا علم تھا۔

دوسری جانب مقتول امریکی صحافی فولی کے ادارے"گلوبل پوسٹ" کے ڈائریکٹر فیلپ بالپونی نے شامی حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیمز فولی کے قتل کے بارے میں جو ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں ان سے شامی حکومت کے دعوے کی قطعی تردید ہوتی ہے۔ مسٹر فیلپ کا کہنا تھا کہ جیمز فولی کے قتل کا واقعہ پرانا نہیں بلکہ چند دن پہلے کا ہے کیونکہ اس کی گواہی فولی کے ساتھ گرفتار دوسرے کچھ لوگوں نے بھی دی ہے۔

ادھر اخبار "ٹائمز" نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جیمز فولی کے قتل کے حوالے سے انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی چار منٹ 40 سیکنڈ کی ویڈیو جعلی ہو سکتی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ برطانوی ماہرین نے بھی ویڈیو کے مشکوک ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے ہے اور کہا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ داعشی جنگجو نے فولی کو کیمرے کے سامنے قتل نہ کیا ہو اور کمپیوٹر کے ذریعے اس کے قتل کی جعلی ویڈیو بنا دی گئی ہو۔ اخبار لکھتا ہے کہ جیمز فولی کےقتل میں کوئی شبہ نہیں لیکن جس ویڈیو میں اسے قتل ہوتے دکھایا گیا ہے وہ بہرحال مشکوک ہے۔

گذشتہ اتوار کو امریکا میں برطانوی سفیر پیٹر ویسٹماکوٹ نے سی این این ‌کو ایک انٹرویو میں دعوٰی کیا تھا کہ ان کے ملک کے ماہرین صحافی جیمز فولی کے قتل میں ملوث نقاب پوش شخص کی شناخت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔