ایرانی جوہری پروگرام پر مغربی سائبر حملوں کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے ایک جانب مغربی ممالک سے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کر رکھے ہیں وہیں دوسری جانب مغربی ملکوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ تہران کے پرامن جوہری پروگرام میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے اس پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی" ایرنا" کے مطابق تہران کی جوہری توانائی ایجنسی کے معاون برائے سیکیورٹی امور اصغر زارعان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب، تہران کے جوہری پروگرام میں خلل ڈالنے کے لیے سائبر حملے کر رہا ہے۔

اصغر زارعان نے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا نام لے کر کہا کہ یہ ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے سائبر حملوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سائبر حملوں کے نیتجے میں اصفہان شہر میں ایٹمی پلانٹ میں یورنیم افزودگی کا عمل متاثر ہوا ہے۔ اصفہان ایٹمی پلانٹ پر سائبر حملہ چند روز قبل کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں یورنیم گیس کی قدرتی یورنیم آکسائیڈ میں تبدیلی کا عمل متاثر ہوا۔ اس نوعیت کے حملے پہلی مرتبہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ ایرانی ماہرین نے بہت سے سائبر حملے ناکام بھی بنائے ہیں۔

ایرانی جوہری توانائی ایجنسی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ زیادہ تر سائبر حملے ایران کے بیرون ملک سے خرید کردہ جوہری پروگرام کے انفرا اسٹرکچر پر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی ایجنسی انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے مٶثر اقدامات کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سب سے بڑا سائبر حملہ سنہ 2010ء میں کیا گیا۔ اس حملے میں "اسٹاکسنٹ" نامی وائرس جوہری تنصیبات کے کمپیوٹرز میں چھوڑا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 30 ہزار کمپیوٹرز اور "نطنز" پلانٹ کے لیپ ٹاپ ناکارہ ہو گئے تھے۔ ایران نے وائرس چھوڑنے کا الزام امریکا پر عائد کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ نطنز جوہری پلانٹ کے مرکزی یونٹ کے 100 کمپیوٹر سسٹم تباہ ہو گئے تھے جس کے بعد جوہری تنصیبات کا عمل کئی ماہ تک تعطل کا شکار رہا تھا۔

اس کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات پر دوسرا بڑا سائبر حملہ 2012ء میں کیا گیا۔ اس میں"فلائم" نامی ایک مہلک وائر ایرانی کمپیوٹر سسٹم میں داخل کیا گیا تھا جس نے بڑے پیمانے پر کمپیوٹر کا ڈیٹا ضائع کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی حکومت نے سائبر حملوں سے بچنے اور جدید ٹیکنالوجی کے آلات کی خریداری کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم مختص کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں