سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے وفد کا دورۂ قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کے ایک وفد نے بدھ کو خلیجی ریاست قطر کا مختصر دورہ کیا ہے۔وفد میں سعودی وزیرخارجہ کے علاوہ انٹیلی جنس چیف شہزادہ خالد بن بندر اور وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف شامل تھے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے دوحہ کے اس دورے کو برادرانہ قرار دیا ہے۔البتہ اس نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی اور صرف یہ کہا ہے کہ تینوں اعلیٰ سعودی عہدے دار قطر کے بعد پڑوسی ریاست بحرین چلے گئے تھے۔

قطر اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں رواں سال کے اوائل میں مصر کی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے معاملے پر سردمہری پائی جارہی ہے۔اس تناظر میں سعودی عرب کے کسی اعلیٰ سطح کے وفد کا قطر کا یہ پہلا دورہ ہے۔وفد کے ارکان نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ قطر کے سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات بھی اچھے نہیں رہے ہیں۔مارچ میں ان تینوں ممالک نے دوحہ میں تعینات اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔ان تینوں ممالک نے قطر پر اپنے داخلی امور میں مداخلت اور اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔

اخوان المسلمون کو مصر نے گذشتہ سال دسمبر میں دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا اور اس کے بعد سعودی عرب ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے بھی اخوان کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔ اس جماعت کے وابستگان کے خلاف مصر کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے اور اس کے سیکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے جولائی میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی اور ان سے دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے قطر کے وزیرخارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی ہے جس میں قطر اور دوسری خلیجی ریاستوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

اس اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان کے مطابق قطر سے کہا گیا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تنظیم کے کسی بھی رکن ملک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے اور وہ ایسی کسی جماعت کی حمایت نہ کرے جو جی سی سی کے کسی رکن ملک کے استحکام اور سلامتی کے لیے خطرات کا موجب بن سکتی ہو۔ خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں قطر اور دوسرے ممالک کے درمیان موجود اختلافات کے خاتمے کے لیے کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ عبداللہ العسکر نے ایک بیان میں الزام عاید کیا ہے کہ ''قطر اخوان المسلمون کا گھر اور ہیڈکوارٹر بن چکا ہے جبکہ اس گروپ کو باقی عرب دنیا دہشت گرد قرار دیتی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں