.

بشارالاسد مغرب نہیں،داعش کے اتحادی ہیں:فرانسو اولاند

داعش مخالف جنگ کے لیے امریکا نئے اتحادیوں کی تلاش میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے خبردار کیا ہے کہ ''شامی صدر بشارالاسد دہشت گردی مخالف جنگ میں مغرب کے اتحادی نہیں ہیں بلکہ وہ عراق اور شام میں تباہی پھیلانے والے دولت اسلامی کے انتہاپسند جنگجوؤں کے اتحادی ہیں''۔

انھوں نے جمعرات کو پیرس میں دنیا میں تعینات فرانسیسی سفیروں کے اجلاس سے خطاب میں داعش کو شکست دینے کے لیے شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ فرانس نے اقوام متحدہ پر بھی زوردیا ہے کہ وہ لیبی حکام کی ملک میں عمل داری بحال کرنے کے لیے بھرپور مدد کرے۔

درایں اثناء امریکا خانہ جنگی کا شکار دو ممالک عراق اور شام میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف بین الاقوامی مہم برپا کرنے کے لیے نئے اتحادی ممالک کی تلاش میں ہے اور برطانیہ اور آسٹریلیا اس مہم میں اس کے ممکنہ اتحادی ہوسکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون جین سکئی نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور ان سے اس حوالے سے بات چیت ہورہی ہے کہ وہ داعش کے خلاف مہم میں کیا حصہ ڈال سکتے ہیں۔اس ضمن میں انسانی امداد ، عسکری ،سراغرسانی اور سفارتی شعبوں میں تعاون کیا جاسکتا ہے''۔

یورپی یونین کے ایک رکن ملک جرمنی کا بھی کہنا ہے کہ اس نے امریکا اور دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ داعش کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے بات چیت کی ہے لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عراق اور شام کے وسیع علاقے کو مفتوحہ بنا کر اپنی حکومت قائم کرنے والے سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں کون کون سے ممالک حصہ لیں گے۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تنہا بھی داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے سینیر مشیروں نے اسی ہفتے شام کے مشرقی علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کو وسعت دینے کے لیے ممکنہ حکمت عملی پرغور کیا ہے۔امریکی جنگی طیاروں نے حال ہی میں شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

عراق نے امریکا کے اس کردار کا خیرمقدم کیا تھا اور امریکی بمباری کے بعد داعش کے جنگجوؤں کرد آبادی والے علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے لیکن شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی منظوری کے بغیر شام میں کوئی کارروائی کی گئی تو اس کو جارحیت اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی خیال کیا جائے گا۔