.

داعش: برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے عراق اور شام میں برسرپیکار باغی جنگجو گروپوں کی جانب سے مغربی ممالک میں حملوں کی دھمکیوں کے بعد دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے اور اس کو ''قابل غور اہم'' سے بڑھا کر ''خطرناک'' کردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے حملے کا بہت حد تک امکان ہے۔

تھریسا مے نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ شام اور عراق میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند کی گئی ہے۔ان دونوں ممالک میں دہشت گرد گروپ مغرب پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ان میں سے بعض منصوبوں میں غیرملکی جنگجو ملوث ہوسکتے ہیں اور یہ جنگجو ان تنازعات میں حصہ لینے کے لیے برطانیہ اور یورپ سے گئے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس کا یہ مطلب ہے دہشت گردی کے حملے کا بہت زیادہ امکان ہے لیکن ابھی ایسی کوئی انٹیلی جنس اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ حملہ ناگزیر ہے''۔

برطانیہ نے دہشت گردی کے حملے کے خطرات کی پانچ سطحیں وضع کررکھی ہیں اور یہ سطح ان میں سے دوسرے نمبر پر ہے۔ جولائی 2011ء کے بعد یہ بلند ترین سطح ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ملک میں سکیورٹی الرٹ کی سطح کو بلند کرنے کے حوالے سے آج سہ پہر کو ایک بیان جاری کرنے والے تھے۔

برطانوی پولیس نے اسی ہفتے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ دہشت گردوں کی نشان دہی اور گرفتاری کے لیے اس کی مدد کریں۔اس نے یہ اپیل عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ہاتھوں یرغمال امریکی صحافی جیمز فولی کے اندوہناک قتل کے بعد جاری کی ہے۔

اس امریکی صحافی کا مبینہ طور پر داعش میں شامل ایک نقاب پوش برطانوی جنگجو نے سرقلم کیا تھا اور وہ لندنی لہجے میں انگریز بول رہا تھا۔اس کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سے برطانیہ سے لڑائی کے لیے بیرون ملک جانے والے لوگوں کی نشان دہی پر زوردیا جارہا ہے تا کہ انھیں عازم سفر ہونے سے پہلے ہی پکڑا جاسکے۔اس کے علاوہ برطانوی سکیورٹی فورسز ملک میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے والے نیٹ ورکس کی بھی کڑی نگرانی کررہی ہیں۔