.

یمنی حوثیوں سے حکومت مخالف مہم ختم کرنے کا مطالبہ

دوسرے ممالک یمن میں مداخلت سے گریز کریں : یواین سلامتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں حکومت کے خلاف شیعہ حوثی جنگجوؤں کی باغیانہ سرگرمیوں کی مذمت کی ہے اور دوسرے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ بدامنی کا شکار اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت سے باز رہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''کونسل عبداللہ یحییٰ الحکیم کی قیادت میں حوثی فورسز کی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے۔حوثی فورسز نے 8 جولائی کو یمنی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز سمیت صوبہ عمران پر قبضہ کر لیا تھا''۔

کونسل نے حوثیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی فورسز کو صوبہ عمران سے واپس بلائیں اور یمنی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا سلسلہ بند کردیں۔اس نے یمن میں سکیورٹی کی ابتر ہوتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حوثی باغی اہل تشیع کے زیدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ گذشتہ قریباً ایک عشرے سے شمالی یمن میں حوثیوں کو حقوق دلانے کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔انھوں نے جمعہ کو دارالحکومت صنعا کے نواح میں مظاہرے کیے ہیں اور حکومت سے مستعفی ہونے اور تیل پر دیاجانے والا زرتلافی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں کے ان احتجاجی مظاہروں کا بھی اپنے بیان میں تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ''ان اقدامات میں یمنی حکومت کو گرانے کے لیے مہم میں تیزی ،صنعا کے آس پاس ان کے کیمپوں کا قیام، دارالحکومت کی جانب آنے والے تزویراتی راستوں پر چیک پوائنٹس کا قیام اور صوبہ الجوف میں جاری لڑائی شامل ہے''۔

برطانیہ کی جانب سے تیارکردہ اس بیان میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ ''وہ یمن میں اس انداز میں بیرونی مداخلت سے گریز کریں کہ جس سے اس ملک میں انتقال اقتدار کے عمل میں کوئی رکاوٹ پڑ سکتی ہے''۔

واضح رہے کہ یمنی صدر نے مارچ میں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جنوبی یمن میں علاحدگی پسندوں اور شمالی یمن میں مذہبی گروپوں کی پشت پناہی ختم کردے۔ایران ماضی میں کئی مرتبہ یمن میں مداخلت سے متعلق الزامات کی تردید کرچکا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فروری میں ایسے کسی بھی شخص کے خلاف عالمی پابندیوں کی اجازت دی تھی جو یمن میں سیاسی انتقال اقتدار کی راہ میں حائل ہوگا یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوگا۔تاہم اس نے کسی خاص شخص کو بلیک لسٹ نہیں کیا تھا۔نیویارک میں تعینات مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح اور سابق صدر علی سالم البیدوا کو اقوام متحدہ بلیک لسٹ کر سکتی ہے۔