.

سعودی عرب کی ایران کے ساتھ تعاون کے لیے شرط

ایران عرب ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت سے باز رہے: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اگر عرب ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت ختم کردے تو سعودی عرب اس کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہوگا۔

یہ بات اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیرعبداللہ المعلمی نے العربیہ نیوز کے نمائندے طلال الحاج کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر خطے میں ایران کوئی مثبت کردار ادا کرتا ہے اور عرب ممالک کے داخلی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرتا ہے تو پھر اس کو خوش آمدید کہا جائے گا''۔

واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں سفارتی روابط میں تیزی آئی یے اور ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف جلد ہی سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔جدہ میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں تعینات ایرانی سفیر حمید رضا دیہ غانی نے وزیر خارجہ کے اس دورے کا انکشاف کیا ہے لیکن ابھی اس دورے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبدالا لہیان نے اسی ہفتے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل سے ملاقات کی تھی۔سفیر حمید رضا کے بہ قول یہ ملاقات ''مثبت اور تعمیری'' رہی تھی اور دونوں نے علاقے کی تازہ صورت حال اور انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

2013ء میں اعتدال پسند ایرانی صدر حسن روحانی کے انتخاب اور اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی اعلیٰ ایرانی عہدے دار کا سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ تھا۔حسن روحانی نے برسر اقتدار آنے کے بعد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایران اور سعودی عرب کے عراق اور شام میں جاری خانہ جنگیوں ، لبنان ،یمن اور بحرین میں سیاسی بحرانوں کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن دونوں ممالک سخت گیر جنگجو گروپوں کی عراق اور شام میں تیز رفتار پیش قدمی کو روکنے میں متفق نظر آتے ہیں اور ان دونوں نے سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی رخصتی کا بھی خیرمقدم کیا تھا۔

سعودی عرب نے قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کو دورے کی دعوت دی تھی اور ایران نے اس کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس دورے کی ابھی تک نوبت نہیں آئی ہے۔

سعودی عرب ایک عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے شکوک اور خدشات کا اظہار کرتا چلا آ رہا ہے اوراس کو خدشہ ہے کہ ایران اس کے ذریعے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران اس الزام کی کئی مرتبہ تردید کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔