.

امریکا کی داعش کے خلاف سوشل میڈیا پر گوریلا جنگ

امریکی دفتر خارجہ میں قائم شعبے نے ذمہ داری سنبھال لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے داعش کے خلاف سوشل میڈیا پر جارحانہ مہم شروع کر دی ہے۔ امریکا کی طرف سے یہ آغاز پچھلے ماہ داعش کے زیر قبضہ عراقی علاقوں پر امریکی فضائی کارروائیوں اور شام میں داعش کے ہاتھوں امریکی صحافی کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس جارحانہ سوشل میڈیا مہم میں داعش اور القاعدہ دونوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ اس سلسلے کا آغاز ٹوئٹر سے کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق سوشل میڈیا ایک میدان جنگ کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کوشش میں مسلم دنیا کے نوجوانوں کو خصوصی ہدف بنایا جائے گا تاکہ انہیں داعش سے دور رکھا جا سکے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پچھلے اٹھارہ ماہ سے امریکی حکام نے داعش کے لیے متحرک درجنوں سوشل نیٹ ورکس کو ہدف بنا رکھا ہے تاکہ اس کی سرگرمیوں، مقاصد، حکمت عملی کے علاوہ وابستگان اور حامیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

امریکی دفتر خارجہ میں سٹریٹیجک کاونٹر ٹیررزم کمیونیکیشن کے نام سے 2011 میں ایک نیا شعبہ قائم کیا گیا۔ بعدازاں 2012 میں عربی زبان میں ایک ٹوئٹر اکاونٹ شروع کیا تھا۔

امریکی دفتر خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر نے اس بارے میں حکمت عملی بیان کرتے ہوئے اسے سائبر گوریلا کارروائی '' قرار دیا اور کہا یہ اکسیر نہیں نہ ہی یہ سلور بلٹ ہے۔''

امریکی ذمہ دار نے کہا '' لوگ مبالغہ کرتے ہیں، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بے فائدہ چیز ہے، بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ایک جادوئی چیز ہو گی جو دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گی۔''

ان کا کہنا تھا '' یہ ایک تدریجی عمل ہے اور ہر روز کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا نام ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا '' یہ ہزاروں جھڑپوں کی جنگ ہے، نہ کہ بڑی جنگ ہے، امریکا بڑی جنگ کو پسند کرتا ہے لیکن یہ تو محض ایک گوریلا کارروائی ہے۔''