.

لیبیا: عبداللہ الثنی دوبارہ وزیراعظم نامزد

طرابلس میں جنگجوؤں نے متعدد وزارتوں پر کنٹرول حاصل کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی پارلیمان نے عبداللہ الثنی کو دوبارہ وزیراعظم نامزد کردیا ہے جبکہ عبوری حکومت طرابلس میں جنگجوؤں کے مقابلے میں متعدد وزارتوں کا کنٹرول کھو بیٹھی ہے۔

عبوری حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح فورسز نے حکومت کے ہیڈکوارٹرز کا گھیراؤ کر لیا اور ملازمین کو عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔انھوں نے وزراء اور ان کے نائبین کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''مسلح افراد نے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو ڈرایا دھمکایا ہے،ان پر حملے کیے ہیں اور ان کے گھروں کو نذرآتش کردیا ہے''۔حکومتی دفاتراب دارالحکومت کے نواح میں منتقل کردیے گئے ہیں اور حکومت وہاں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ طرابلس میں گذشتہ ہفتوں کے دوران دو مسلح گروپوں کے درمیان خونریز لڑائی کے بعد نومنتخب پارلیمان اور حکومت کو دور دراز واقع مشرقی شہر تبروک میں منتقل کردیا گیا تھا۔

ایک رکن پارلیمان کے مطابق ایوان نمائندگان نے وزیراعظم عبداللہ الثنی کو نامزد کرکے ان سے نئی حکومت بنانے کے لیے کہا ہے۔انھیں مارچ میں ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا لیکن ان کے انتخاب کو ایوان نمائندگان کی ایک متوازی اور حریف پارلیمان نے چیلنج کیا تھا اور انھیں اور ان کا انتخاب کرنے والے ایوان نمائندگان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

طرابلس پر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی جنگجوؤں نے قبضہ کررکھا ہے اور انھوں نے حکومت کے حامی الزنتان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو شدید لڑائی کے بعد وہاں سے پسپا کردیا ہے۔اتوار کو فجر لیبیا کے پرچم تلے متحد اسلامی جنگجوؤں نے طرابلس میں امریکی سفارت خانے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔تاہم وہ مرکزی کمپاؤنڈ میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

فجر لیبیا کے ایک کمانڈر نے ایسوسی ایٹڈ (اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ان کی ملیشیا امریکی سفارت خانے اور اس کے رہائشی کمپاؤنڈ کی حفاظت کررہی ہے''۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ سفارت خانے پر جنگجوؤں کے کنٹرول کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں لیکن محکمہ خارجہ کو یقین ہے کہ سفارت خانے کا کمپاؤنڈ محفوظ ہے۔