.

جرمنی عراقی کرد فورسز کو ہتھیار بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے شمالی عراق میں سخت گیر جنگجوؤں سے نبرد آزما کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کو مسلح کرنے کے لیے ہتھیار اور فوجی سازوسامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

جرمنی کی خاتون وزیردفاع ارسلا وان ڈیر لین نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ان ہتھیاروں میں ٹینک شکن راکٹ ،آتشیں رائفلیں ،دستی بم ،بارودی سرنگیں صاف کرنے والے آلات ،رات کو دیکھنے کے لیے گاگلز (چشمے) ،عارضی باورچی خانے اور خیمے شامل ہوں گے اور یہ ہتھیار چار ہزار کی نفری کے لیے کافی ہوں گے''۔

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کی سکیورٹی فورسز کو ہتھیار اور جنگی آلات مہیا کرنے کا فیصلہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کی صدارت میں کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے بعد تنازعات میں ملوث نہ ہونے کی پالیسی اور روایت کو توڑتے ہوئے البیش المرکہ کو اسلحہ دے رہا ہے۔

اینجیلا مرکل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی شورش اور تشدد کی وجہ سے عراق ایک استثنیٰ ہے اور وہاں غیر ملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سےجرمنی اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں''۔

جرمن انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق اس وقت کم سے کم پانچ سو جرمن شہری داعش میں شامل ہوکر عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔داخلی سراغرسانی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ''ان کے پاس پانچ جرمن شہریوں کے مزاحمت کاروں کی جانب سے ان دونوں ممالک میں خود کش حملے کرنے کے شواہد موجود ہیں''۔

جرمنی نے اس سے پہلے عراقی کردوں کی مدد کے لیے دفاعی سازوسامان آلات، ہیلمٹ اور جسم کے تحفظ کے لیے ڈھالیں وغیرہ بھیجی تھیں لیکن ہتھیار نہیں بھیجے تھے۔اس نے امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لیے اربیل میں قائم اپنے قونصل خانے میں چھے فوجی بھی تعینات کیے ہیں۔

رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق جرمن شہریوں کو کردوں کو داعش کے مقابلے میں اسلحہ بھیجنے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے جبکہ حزب اختلاف نے خبردار کیا ہے کہ یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں جاسکتے ہیں۔جرمن پارلیمان اس معاملے پر سوموار کو بحث کرے گی۔

جرمنی نے قبل ازیں امریکا اور دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ داعش کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے بات چیت کی ہے لیکن اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عراق اور شام کے وسیع علاقے کو مفتوحہ بنا کر اپنی حکومت قائم کرنے والے سخت گیر جنگجو گروپ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں کون کون سے ممالک حصہ لیں گے اور اس فوجی مہم کے لیے مالی وسائل کون مہیا کرے گا۔