.

خطے کا ایک ملک یمن کو آگ میں دھکیل رہا ہے: ھادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ خطے کا ایک ملک سازش کے تحت ان کے صنعا میں عراق اور شام جیسی صورت حال پیدا کر کے ملک کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے اس ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم ان کا اشارہ واضح طور پر ایران کی جانب تھا۔ کیونکہ یمن اپنے ہاں جاری شورش کی ذمہ داری کا الزام مسلسل ایران پر عائد کرتا چلا آ رہا ہے۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ھادی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ملک کو ہر قسم کی خانہ جنگی سے بچانے کے لیے پوری کوشش کررہی ہے لیکن خطے کا ایک ملک دانستہ طورپر صنعاء کو اسی آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں بغداد اور دمشق جل رہے ہیں۔ یہ ملک نہیں چاہتا کہ یمن میں امن اور استحکام آئے۔

صدر نے مزید کہا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر جہاں یمن کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہاں دوست ممالک ہماری بھرپور مدد بھی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تمام مستقل ارکان، خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک اور پوری دنیا یمن کو خانہ جنگی کی آگ سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

جنوبی یمن کے شورش زدہ علاقے الصعدہ میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر عبد ربہ ہادی کا کہنا تھا کہ صعدہ کی جنگوں نے ہمارے چار ہزار افسروں اور جوانوں کی زندگیاں چھین لیں اور 13 ہزار فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ الصعدہ میں کشیدگی بھی غیر ملکی سازش ہے تاہم خلیجی ممالک کی مساعی سے ہم نے الصعدہ کو دہشت گردی سے بچانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔