.

لیبی دہشت گرد یورپ کو تیل کی فروخت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے کہا ہے کہ یورپ کو قدرتی تیل کی فروخت کا فائدہ لیبیا کے عسکریتی پسندوں کو ہو رہا ہے۔ مغرب جن عسکریت پسندوں سے نمٹنا چاہتا ہے خود تیل سےحاصل ہونے والے منافع سے ان عسکریت پسندوں کو فائدہ بھی پہنچا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "دی پریس" کے مطابق ماسکو یونیورسٹی میں طلباء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوٕئے مسٹر لافروف نے استفسار کیا کہ"آج لیبیا کہاں ہے؟"۔ پھر وہ خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیبیا جس کے تیل کے ذخائر دہشت گرد گروپوں نے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ وہ تیل فروخت کرتے ہیں اور یورپ ان سے خرید کرتا ہے کیونکہ یورپ نے لیبیا کے تیل کی فروخت پر پابندی اٹھا رکھی ہے۔ یورپ کو فروخت ہونے والے تیل کا فائدہ لیبی دہشت گردوں کو ہوتا ہے۔ یہی دہشت گرد عراق اور دوسرے ملکوں میں مغربی مفادات پر حملے بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب لیبیا کے مرد آہن کرنل معمر قذافی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تو باغیوں‌ کو اسلحہ اور رقوم فراہم کرنے والے تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ملک تباہ کردیا تھا۔ تباہ حال ملک عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیا گیا۔ لیبیا پرقبضے کے بعد جنگجو وہاں سے آگے بڑھے اور مالی پر قبضے کی کوشش کی۔ مالی میں فرانس نے دہشت گروں کو شکست دی۔ مالی بھی انہی لوگوں سے مقابلہ کر رہا ہے جنہوں نے کرنل قذافی کو انجام سے دوچار کیا تھا"۔

سرگئی لافروف نے کہا کہ انہوں نے یہی باتیں اپنے فرانسیسی ہم منصب سے بھی کہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ "ہاں یہی زندگی ہے"۔روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب خود لیبیا کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس پر اسلامی عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے اور حکومت کے تمام اہم سرکاری دفاتر بھی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔