امریکا نے سوٹلوف کا سرقلم ہونے کی تصدیق کردی

بین کی مون کی جانب سے مقتول اسرائیلی شہری کے بہیمانہ قتل کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کونسل نے امریکی ،اسرائیلی صحافی اسٹیون سوٹلوف کے قتل کی ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

قومی سلامتی کونسل نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ''امریکا کی انٹیلی جنس کمیونٹی نے صحافی اسٹیون سوٹلوف کے قتل کی ویڈیو کا جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ اصلی ہے''۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مقتول اسٹیون سوٹلوف اسرائیلی شہری تھا۔

برطانوی اخبار گارجین نے لکھا ہے کہ امریکی صحافی کا سرقلم کرنے والے جنگجو کی شناخت کے لیے تحقیقات کی جارہی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا یہ وہی جنگجو ہے جس نے اس سے پہلے امریکی صحافی جیمز فولی کا اسی انداز میں سرقلم کیا تھا۔

برطانوی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ویڈیوز میں نمودار ہونے والے جنگجو کی آواز ایک جیسی تھی۔تاہم اس کے مکمل نقاب پوش ہونے کی وجہ سے اس کے نقوش کا درست اندازہ لگانا مشکل تھا۔برطانوی حکام گذشتہ ماہ منظرعام پر آنے والی ویڈیو میں سنگ دل قاتل کی نشان دہی کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں اور وہ ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں کہ یہ کون شخص ہے۔

دونوں ویڈیوز میں نمودار ہونے والا جنگجو لندن کے لب ولہجے میں انگریزی بول رہا تھا اور اس کو جہادی جان کا نام دیا گیا ہے۔داعش کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ویڈیو میں اکتیس سال سوٹلوف بڑے اطمینان سے گفتگو کر رہا ہے اور یہ کہ رہا ہے کہ اس کو عراق میں صدر براک اوباما کی جانب سے جہادیوں کے خلاف فضائی حملوں کی اجازت دینے کے فیصلے کے ردعمل میں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔

سوٹلوف جنگی وقائع نگار تھا اور اس کو ایک سال قبل ترکی سے شام میں داخل ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔امریکا میں قائم جہادی اور دہشت گرد گروپوں کی ویب سائٹس کی مانیٹرنگ کرنے والے گروپ سائٹ نے داعش کی جانب سے گذشتہ روز جاری کردہ اس ویڈیو کی اطلاع دی تھی ۔اس میں نقاب شخص نے برطانوی یرغمالی ڈیوڈ ہینس کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی ہے اور دنیا کی حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ ''وہ دولت اسلامی کے خلاف امریکا کے ساتھ شیطانی اتحاد بنانے سے انکار کردیں''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ اسرائیلی ،امریکی صحافی کا سرقلم کرنے کی ویڈیو سے دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔میں اس طرح کے بہیمانہ جرائم اور ایک پوری برادری کو ڈرانے دھمکانے کی مذمت کرتا ہوں۔

انھوں نے نیوزی لینڈ کے دورے کے موقع پر عراق کی صورت حا ل کو تشویش ناک قرار دیا ہے اور مذہبی قائدین پر زوردیا ہے کہ وہ رواداری ،باہمی احترام اور عدم تشدد کو رواج دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں