.

بیرون ملک سعودی شہریوں کو غلط رویے پر سزا دینے کی ضرورت

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے کویتی شہریوں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جائیں جو بیرون ملک ہوتے ہوئے ملک کی بدنامی اور بیرونی ممالک میں سفر کے دوران کویت کی شہرت و عزت کے لیے نقصان کا باعث بنیں۔ ایک خلیجی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے رکن نبیل الفادی کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ ایسے کویتی شہریوں کے خلاف سنجیدہ اور بامعنی کارروائی کا اہتمام کریں جو کویت کی شہرت کو ملک سے باہر جا کر بٹہ لگاتے ہیں۔

کویتی پارلیمنٹ کے ایک اور رکن عبدالحمید دشتی نے بھی اس معاملے پر بحث شروع کرانے کے لیے کہا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا نے ہماری توجہ ایسے مختلف قسم کے رویوں کی جانب مبذول کرائی ہے جو ہماری اسلامی اور عرب روایات کے منافی ہیں۔ بیرون ملک جا کر بعض لوگوں کے ایسی حرکات کے مرتکب ہونے کے حوالے سے یہ رپورٹ اگرچہ کویتی شہریوں سے متعلق ہے۔ لیکن ان حوالوں کا اطلاق خلیج کے دیگر ممالک پر بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک مثال کویتی سیاح خاتون کی سامنے آئی ہے کہ اس نے اپنے ایڑھی والے جوتے سے اپنے ہی بچوں کے چہروں اور رخساروں پر سرعام ضربیں لگائی ہیں۔ بیرون ملک پارکوں کی سیر کے دوران نوجوان فواروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں پلاسٹک کی خالی لفافے اور بوتلیں ادھر ادھر پھینک دیتے ہیں۔

میرا سفری مشاہدہ

میں نے بیرون ملک اپنے بارہا کیے جانے والے سفر کے دوران اس سے بھی زیادہ بری اور مکروہ چیزیں دیکھی ہیں۔ اس بارے میں اپنے سعودی نوجوانوں کے ساتھ بات بھی کرتا رہا ہوں کہ بیرون ملک ہوتے ہوئے ہمیں مناسب طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ بڑا تکلیف دہ رجحان ہے جو دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔ سعودی شہری بیرون ملک ہوتے ہوئے برقی سیڑھیوں اور بلند و بالا عمارتوں میں لگی لفٹوں کے کے سامنے کھڑے ہو کر لفٹس سے باہر آنے والے افراد کا راستہ روک دیتے ہیں۔ اسی طرح عمارات کے باہر جانے والے راستوں کے سامنے نمازوں کی ادائیگی شروع کر دیتے ہیں اور راہگیروں کا راستہ بند کر دیتے ہیں۔

یہ بھی عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ سعودی شہری غیر ملکی شاپنگ سنٹرز کے کاونٹرز پر موجود سیلزمین اور سیلز ویمن سے اس وقت اپنی باری کا انتظار کیے بغیر بے دھڑک مخاطب ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جب وہ کسی اور گاہک کی بات سن رہے ہوتے ہیں یا کسی اور سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر ایک سیلز وومین کو ایک عجلت پسند سعودی خاتون سے کہنا پڑا '' براہ کرم خیال رہے جب میں ایک وقت میں دو گاہکوں سے بات کرتی ہوں تو ہمارا مینیجر برا مانتا ہے۔''

آسٹریلیا کے ایک چھوٹے قصبے میں بھی مقامی رہائشیوں نے خلیجی ممالک کے سیاحوں کے بارے میں شکایات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب ممالک سے آئے مرد سیاح آتے ہیں تو اونچا بولتے ہیں اور ان کی خواتین اپنے آپ کو سر سے پاوں تک ڈھانپے ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان کی وجہ سے ہمارے بچے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ یہ خط شہریوں کی طرف سے شہر کے مئیر کو لکھا گیا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں یہ ''کفن '' نما لباس میں لپٹی خواتین جب اپنے بچوں کو لے کر پارکوں میں قائم کنڈر گارٹنز کے آس پاس آتی ہیں تو بہت سے آسٹریلین بچے ڈر کر چیخ اٹھتے ہیں۔

اگر ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ لوگ ہمیں کیسا سمجھتے ہیں تو ہمارا بہت نقصان ہو جائے گا۔ سعودی وزارت داخلہ عام طور اپنے غیر ممالک سفر کرنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے فکر مند رہتی ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بیرون ملک جانے والے لوگ خود کو بازاری نوعیت کی جگہوں سے بچائیں، بڑی بڑی رقومات ساتھ لے کر نہ گھومیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ ہم باہر کے ملکوں میں اپنا رویہ کس طرح بہتر رکھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ وہ چیز ہے جس کے سجھانے اور سکھانے کی زیادہ ضرورت ہے۔

شکریہ اور براہ کرم کہنے کو اپنا طرز عمل بنائیں

ہمارے سیاحوں کو بیرون ملک جاتے والے لوگوں کو اپنے لہجے اور رویے کے حوالے سے ضرور اچھا، خوشگوار اور نرمی کا حامل ہونا چاہیے۔ تشکر کا اظہار کرنا اور براہ مہربانی ایسے الفاظ کو عادت بنائیے اور جس بھی ملک میں ہوں اس کے قوانین کی پابندی کیجیے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ سعودی شہری اپنے ملازموں ، ہوٹلوں کے بیروں اور دکانوں کے سیلز مین وغیرہ سے گالی گلوچ کا رویہ اپناتے ہیں۔

مجھے نیویارک کے ریستوران میں پیش آنے والا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے، جہاں میرا ایک سعودی ہم وطن ایک ایشائی بیرے کے ساتھ بظاہر بلاوجہ چلا رہا تھا۔ اس پر بیرے نے کہا '' جناب میں اقامہ نہیں رکھتا ہوں۔'' اس منظر کو دیکھ کر ریستوران کا مینیجر آیا اور اس نے سعودی شہری سے کہا ہم اپنے ملک میں اس طرح شور نہیں مچاتے ہیں۔ اگر کوئی کوتاہی ہو تو ہمیں بتائیں۔ اس صورت حال پر سعودی شہری کی اہلیہ کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا اور اس نے معذرت پیش کی۔

اسی طرح ہمارے ہم وطن بیرون ملک ہوتے ہوئے پڑوسیوں کے بارے میں غیر حساس ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سعودی سیاح رات گئے تک بلند آواز میں بولتے رہتے ہیں اور جب کرائے پر لیے ہوئے فلیٹ چھوڑتے ہیں تو ان کی حالت خوفناک حد تک خستہ کر چکے ہوتے ہیں، فرنیچر توڑ دیتے ہیں، ہم ایسے لوگوں کے ہاتھوں اپنے ملک کا تشخص مجروح نہیں کرا سکتے۔ اس سے قطع نظر کہ ایسے لوگ خواہ تعداد میں تھوڑے ہوں یا زیادہ، میں یقین رکھتا ہوں کہ برے رویے ہوں یا غیر اخلاقی انداز، ہمیں ہر اس حرکت اور عمل کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے جو ہماری اسلامی اقدار اور معاشرتی نظافت کے منافی ہو۔ اچھے پڑوسی نہ ہونے اور نرم خو نہ ہونے پر اپنے شہریوں کو سزا دی جانی چاہیے۔ جو انداز ہماری اسلامی اقدار کے منافی ہو، اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ رویہ خواہ ملک کے اندر ہو یا ملک سے باہر اسے روکنا چاہیے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جانا چاہیے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.